نوکری سے برطرفی کے خوف نے میٹا کی ملازمہ کو بچوں کی منصوبہ بندی ترک کرنے پر مجبور کردیا

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی میٹا میں ملازمت کرنے والی ایک خاتون ملازمہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملازمت کے غیر یقینی مستقبل اور مسلسل برطرفیوں کے خدشات کے باعث اس نے فی الحال بچوں کی منصوبہ بندی ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ملازمہ نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر پیشہ ور افراد کے آن لائن پلیٹ فارم Blind پر لکھا کہ شوہر سے گفتگو کے بعد اسے احساس ہوا کہ موجودہ حالات میں ماں بننے کا فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔

خاتون ملازمہ کا کہنا تھا کہ کمپنی میں ملازمت کا کوئی تحفظ نہیں اس لیے یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اگلے سال بھی کمپنی کا حصہ ہوگی یا زچگی کی چھٹی (میٹرنٹی لیو) کے بعد واپس آنے پر اس کی ملازمت برقرار رہے گی۔

انہوں نے لکھا کہ کمپنی کے غیر مستحکم ماحول، تنخواہ اور مراعات میں غیر یقینی صورتحال اور مسلسل برطرفیوں کے خدشات نے خاندانی منصوبہ بندی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کن ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟ نئی تحقیق نے اہم شعبوں کی نشاندہی کر دی

ملازمہ نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ان کی عمر بڑھ رہی ہے اور انہیں خوف ہے کہ کہیں ملازمت کے عدم تحفظ کی وجہ سے وہ مستقبل میں ماں بننے کا موقع ہی نہ گنوا دیں۔

یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جہاں صارفین نے ملازمت کے تحفظ، کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن اور دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں کمی جیسے موضوعات پر بحث شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے

کئی صارفین نے ملازمہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کمپنی میں ملازمین کی ملازمت مستقل نہیں ہوتی اس لیے پیشہ ورانہ خدشات کی وجہ سے ذاتی زندگی کے اہم فیصلے غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کرنے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp