دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی میٹا میں ملازمت کرنے والی ایک خاتون ملازمہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملازمت کے غیر یقینی مستقبل اور مسلسل برطرفیوں کے خدشات کے باعث اس نے فی الحال بچوں کی منصوبہ بندی ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ملازمہ نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر پیشہ ور افراد کے آن لائن پلیٹ فارم Blind پر لکھا کہ شوہر سے گفتگو کے بعد اسے احساس ہوا کہ موجودہ حالات میں ماں بننے کا فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔
If your job makes you postpone life, is the TC worth it? pic.twitter.com/i7xchsaRkM
— Blind (@JoinBlind) August 6, 2026
خاتون ملازمہ کا کہنا تھا کہ کمپنی میں ملازمت کا کوئی تحفظ نہیں اس لیے یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اگلے سال بھی کمپنی کا حصہ ہوگی یا زچگی کی چھٹی (میٹرنٹی لیو) کے بعد واپس آنے پر اس کی ملازمت برقرار رہے گی۔
انہوں نے لکھا کہ کمپنی کے غیر مستحکم ماحول، تنخواہ اور مراعات میں غیر یقینی صورتحال اور مسلسل برطرفیوں کے خدشات نے خاندانی منصوبہ بندی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کن ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟ نئی تحقیق نے اہم شعبوں کی نشاندہی کر دی
ملازمہ نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ان کی عمر بڑھ رہی ہے اور انہیں خوف ہے کہ کہیں ملازمت کے عدم تحفظ کی وجہ سے وہ مستقبل میں ماں بننے کا موقع ہی نہ گنوا دیں۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جہاں صارفین نے ملازمت کے تحفظ، کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن اور دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں کمی جیسے موضوعات پر بحث شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے
کئی صارفین نے ملازمہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کمپنی میں ملازمین کی ملازمت مستقل نہیں ہوتی اس لیے پیشہ ورانہ خدشات کی وجہ سے ذاتی زندگی کے اہم فیصلے غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کرنے چاہییں۔














