سربیا کے وزیرِ اطلاعات و ٹیلی کمیونی کیشنز بورس براتینا نے کہا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کر رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی، عالمی اے آئی گورننس اور کم لاگت والی سبز و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے دنیا، خصوصاً ترقی پذیر ممالک، کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سربیا کے وزیرِ اطلاعات و ٹیلی کمیونی کیشنز بورس براتینا نے شِنہوا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ برسوں میں چین نے ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے، جو اس کی تیز رفتار اختراعی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 جی مواصلاتی نظام، مصنوعی ذہانت، صاف توانائی اور خلائی تحقیق جیسے جدید شعبوں میں چین کی کامیابیاں نہ صرف اس کی معیشت کو مضبوط بنا رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
AI expert: China taking collaborative innovation and open-source AI to world
China and the US are the world's two leading artificial intelligence (AI) powers, but they have taken distinct paths, Jeffrey Towson, digital and AI management consultant at TechMoat Consulting, told… pic.twitter.com/wz0Bruvr76
— CGTN BIZ (@CGTNGlobalBiz) August 1, 2026
براتینا کے مطابق دنیا مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین کی تیز رفتار پیش رفت سے حیران ہے۔ چین نے مشین لرننگ اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ میں مسلسل نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف صنعتوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیومنائیڈ روبوٹس اور خودکار گاڑیوں جیسے جدید شعبوں میں بھی چین نمایاں اختراعات پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا گلوبل اے آئی گورننس انیشی ایٹو اور کم لاگت پر سبز و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فراہمی اسے اس شعبے میں ایک منفرد اور دوراندیش عالمی کردار عطا کرتی ہے۔
سربیا کے وزیر نے صاف توانائی، خصوصاً شمسی توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں چین کی کامیابیوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے دنیا بھر میں پائیدار ترقی کے لیے ایک مؤثر مثال قائم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین
انہوں نے چین کے خلائی پروگرام، قمری مشنز، ایکسپیریمنٹل ایڈوانسڈ سپر کنڈکٹنگ ٹوکامک (EAST) اور “چیان فان” سیٹلائٹ منصوبے کو بھی سائنسی اور تکنیکی میدان میں نمایاں سنگِ میل قرار دیا۔
بورس براتینا نے کہا کہ سربیا اور چین کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جو روایتی انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، الیکٹرک گاڑیوں اور صاف ٹیکنالوجی تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دونوں ممالک مشترکہ تحقیقی تجربہ گاہوں، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بایوٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے، جس سے دوطرفہ سائنسی و تکنیکی شراکت داری نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔














