سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی عہدے سے ریٹائر ہو گئیں۔ ان کے اعزاز میں چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز نے اسلام آباد سے جبکہ 4 ججز نے کراچی اور 3 ججز نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اپنے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ وہ اپنے مرحوم والدین کی بے حد مشکور ہیں، جن کی تربیت اور دعاؤں کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچیں۔ والدین کا ذکر کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئیں اور کہا کہ والد کے ساتھ زندگی کا بہت کم وقت گزارا، لیکن جو کچھ سیکھا انہی سے سیکھا۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس میں خدمات کو خراجِ تحسین
انہوں نے بتایا کہ جب وہ جج مقرر ہوئیں تو اسی دوران ان کی والدہ انتقال کر گئیں، جس کا انہیں ہمیشہ دکھ رہے گا کیونکہ وہ انہیں اس منصب پر نہیں دیکھ سکیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے چیف جسٹس پاکستان اور اپنے ساتھی ججز کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دوستی اور تعاون نے ہمیشہ انہیں مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بار کا انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی، بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس اور خیبرپختونخوا سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
انہوں نے کہا، ’ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن انصاف ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آج ریٹائر ہوتے ہوئے وہ مطمئن ہیں کہ جو کچھ حاصل کیا وہ والدین کی دعاؤں اور ساتھی ججز کی حمایت کی بدولت ممکن ہوا۔
فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی عدالتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تقرری پر مشاورت، جسٹس مسرت ہلالی نے عہدہ قبول کرنے سے معذرت کرلی
اٹارنی جنرل کے پیغام میں کہا گیا کہ جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس رہیں اور اپنے عدالتی کیریئر کے دوران کئی اہم آئینی اور قانونی مقدمات میں نمایاں فیصلے دیے۔ ان میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق فیصلے، انٹرا کورٹ اپیل میں حکم امتناع کی مخالفت اور تنسیخِ نکاح سے متعلق اہم فیصلہ شامل ہیں۔
فل کورٹ ریفرنس سے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس مسرت ہلالی جج بننے سے قبل بار کی منتخب کابینہ کا حصہ رہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور خواتین، بچوں کو انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنایا۔
صدر سپریم کورٹ بار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی کی کامیاب عدالتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مزید پڑھیں:جسٹس مسرت ہلالی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعینات: صدر علوی نے منظوری دیدی
جسٹس مسرت ہلالی اگست 2023 میں سپریم کورٹ کی جج مقرر ہوئیں اور وہ خیبرپختونخوا سے سپریم کورٹ پہنچنے والی پہلی خاتون جج تھیں۔ اس سے قبل وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بھی رہیں۔
اپنے عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے آئینی، فوجداری اور خاندانی قوانین سے متعلق متعدد اہم مقدمات کی سماعت کی اور خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور فوری انصاف کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ سپریم کورٹ میں ان کی 3 سالہ آئینی مدت اختتام پذیر ہو گئی۔














