پاکستان ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹر سمیع اللہ خان نے کہا ہے کہ قومی ٹیم آئندہ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت کو سخت مقابلہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کم از کم مقابلہ برابر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، اگرچہ پاکستان ٹورنامنٹ میں نسبتاً کمزور ٹیم کے طور پر شریک ہو رہا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بدھ کے روز ورلڈ کپ کے لیے 20 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی پاکستان آٹھ سال بعد ہاکی ورلڈ کپ میں واپسی کر رہا ہے۔
قومی ٹیم کو پول ڈی میں بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے ساتھ رکھا گیا ہے، جسے ٹورنامنٹ کا ایک سخت گروپ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026: پاکستان کے 20 رکنی اسکواڈ کا اعلان
اسکواڈ کے اعلان کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سمیع اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم ہدف بھارت کے خلاف کم از کم ڈرا حاصل کرنا ہوگا، جبکہ ویلز کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت بھی ٹیم میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو ہمارا ہدف بھارت کو کم از کم ڈرا پر روکنا ہے۔ ہمیں ویلز کو شکست دینے کی صلاحیت حاصل ہے، تاہم ہمارے لیے سب سے سخت حریف انگلینڈ ہوگا، کیونکہ وہ عالمی درجہ بندی میں بہت اوپر ہے جبکہ پاکستان اس وقت ایف آئی ایچ رینکنگ میں 12ویں نمبر پر موجود ہے۔‘
بھارت، پاکستان ٹاکرا 9 اگست کو ہوگا
ورلڈ کپ کے پول مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان انتہائی اہم اور روایتی حریفوں کا مقابلہ 9 اگست کو کھیلا جائے گا، جس پر دنیا بھر کے ہاکی شائقین کی نظریں مرکوز ہوں گی۔
دونوں ممالک کے درمیان ہاکی مقابلے ہمیشہ عالمی ہاکی کے سب سے زیادہ دلچسپ اور تاریخی مقابلوں میں شمار ہوتے ہیں۔
غیرملکی کوچز سے کوچنگ اسٹاف مضبوط
پاکستان نے ورلڈ کپ سے قبل اپنے کوچنگ اسٹاف کو بھی مزید مضبوط بنایا ہے۔
تجربہ کار ڈچ کوچ ہرمن کروئس کو ٹیم ڈائریکٹر اور چیف کوچ مقرر کیا گیا ہے، جو نیدرلینڈز میں اپنی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد براہِ راست قومی ٹیم کو جوائن کریں گے۔
اس کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے غیرملکی کوچز باب یوہان ویلڈہوف اور کرسٹوفر بوون کو بھی قومی ٹیم کے معاون کوچز کے طور پر شامل کیا ہے تاکہ ٹیم کو عالمی معیار کی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے عالمی ہاکی رینکنگ: پاکستان ترقی کر کے 12ویں نمبر پر پہنچ گیا
سمیع اللہ خان نے بتایا کہ حتمی اسکواڈ کا انتخاب قومی سلیکشن کمیٹی اور نئے غیرملکی کوچنگ اسٹاف کے درمیان قریبی مشاورت سے کیا گیا ہے، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کرنے کے لیے بہترین ممکنہ ٹیم میدان میں اتاری جا سکے۔
انگلینڈ کے خلاف مہم کا آغاز
پاکستان اور بھارت دونوں اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 15 اگست کو نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹیلوین میں انگلینڈ کے خلاف میچ سے کریں گے، جس کے بعد دونوں روایتی حریف ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ مقابلہ گروپ سے اگلے مرحلے میں رسائی کے امکانات پر بھی اہم اثر ڈال سکتا ہے۔
سمیع اللہ خان نے امید ظاہر کی کہ نئی کوچنگ، بہتر تیاری اور تازہ حکمت عملی کے ساتھ پاکستان نہ صرف دنیا کی مضبوط ٹیموں کا مقابلہ کرے گا بلکہ عالمی ہاکی میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت بھی دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔














