بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ سشمیتا مکھرجی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک کروڑ روپے کے قرض، مالی مشکلات اور خاندان کی ذمہ داریوں نے انہیں اپنے کیریئر کے ایک مرحلے پر ایسی فلموں میں کام کرنے پر مجبور کر دیا جن پر انہیں آج بھی فخر نہیں۔
سشمیتا مکھرجی نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مداح نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے ایسی فلموں میں کام کیوں کیا جنہیں اکثر خواتین کے لیے توہین آمیز اور غیر معیاری قرار دیا جاتا ہے۔
View this post on Instagram
اداکارہ نے کہا کہ یہ سوال انہیں ماضی کے ایک تلخ دور میں لے گیا۔ ان کے بقول ’کیا میں نے اپنی روح بیچ دی؟ یقیناً بیچ دی۔ کیا مجھے اس وقت اچھا لگا؟ نہیں اور آج بھی اس پر اچھا محسوس نہیں کرتی، لیکن وہ میری مجبوری تھی‘۔
سشمیتا مکھرجی نے بتایا کہ 2002 میں ان کی اور ان کے شوہر کی میڈیا کمپنی پرایاس پروڈکشن مالی بحران کا شکار ہو کر بند ہوگئی جس کے باعث ان پر ایک کروڑ روپے کا قرض چڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت مخالف طلبہ تحریک کی حمایت میں سلمان خان، عالیہ بھٹ سمیت کئی بالی ووڈ فنکار میدان میں آگئے
انہوں نے کہا کہ اس دوران قرض کی وصولی کے لیے لوگ روزانہ ان کے گھر آتے، سخت رویہ اختیار کرتے اور مسلسل دباؤ ڈالتے تھے جبکہ اس وقت ان کے بچے بھی بہت چھوٹے تھے۔ ایسے حالات میں انہیں دوبارہ اداکاری شروع کرنا پڑی اور جو بھی آمدنی ہوتی وہ قرض کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتی۔
اداکارہ کے مطابق انہوں نے اور ان کے شوہر نے تقریباً تین سے چار برس کی مسلسل محنت کے بعد قرض ادا کیا تاہم اس دوران انہیں کئی ایسے منصوبے قبول کرنا پڑے جو ان کی پسند یا معیار کے مطابق نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان بڑی بیماری کا شکار ہوگئے؟ لوگوں کے بڑھتے سوال پر بالی ووڈ اداکار نے کیا جواب دیا؟
سشمیتا مکھرجی نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اعلیٰ تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا جس کے باعث مالی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں اور انہیں مسلسل کام کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں بعض فلموں میں کام کرنے پر خوشی نہیں تھی تاہم انہیں اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور مستقبل کے لیے یہ فیصلے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے اور چھوٹے اداکاروں کے لیے کھانے کا الگ مینیو، بالی ووڈ کا بدنما چہرہ بے نقاب
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہر انسان اپنی ضروریات اور حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ کبھی معاشی تحفظ، کبھی خاندان کی ذمہ داری اور کبھی بچوں کے مستقبل کے لیے ایسے فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
سشمیتا مکھرجی نے کہا کہ اب وہ اپنی زندگی کے اس مقام پر پہنچ چکی ہیں جہاں صرف وہی کام قبول کرتی ہیں جو انہیں تخلیقی اور ذاتی طور پر مطمئن کرے۔
انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا ’ہم اداکار ہیں، ہمارے پاس ہمیشہ ہر منصوبہ منتخب کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ بعض اوقات صرف گھر چلانے کے لیے بھی کام کرنا پڑتا ہے‘۔














