امریکی سینیٹ نے روس پر نئی پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی، بھارت اور چین پر 100 فیصد ٹیرف کا خطرہ

ہفتہ 8 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹ نے روس سے تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کی اجازت دینے والے نئے پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت اور چین سمیت روسی توانائی کے بڑے خریداروں کی درآمدات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق روس کے خلاف پابندیوں کا یہ دو طرفہ بل سینیٹ میں 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ یہ بل ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، جو یوکرین کے مضبوط حامی تھے اور 11 جولائی کو انتقال کرگئے تھے۔ ان کی جگہ سینیٹ میں آنے والی ان کی بہن ڈارلین گراہم نے بل کی منظوری کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف سخت اقدام قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:روسی تیل پابندی میں 30 دن کی رعایت نادرست اقدام، امریکی فیصلے پریوکرائنی صدرکی تنقید

بل کے تحت امریکی صدر کو روس سے تیل یا قدرتی گیس درآمد کرنے والے دنیا کے 5 بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار ملے گا۔ بھارت اور چین کے علاوہ آذربائیجان، ہنگری اور سلوواکیہ اس وقت روسی تیل و گیس کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔

مجوزہ قانون میں ان ممالک کے لیے بعض استثنیٰ بھی شامل ہیں جو روس سے اپنی قدرتی گیس کی درآمدات 15 فیصد سے کم کرچکے ہیں اور روسی توانائی پر انحصار مزید کم کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بل میں روسی صدر پیوٹن، اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام، روسی مالیاتی اداروں اور توانائی کے منصوبوں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے پرانے یا دوبارہ رجسٹرڈ آئل ٹینکرز کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنانے کی اجازت ہوگی جنہیں روس موجودہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

تاہم امریکی صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ بعض پابندیوں سے استثنیٰ دے سکیں، بشرطیکہ وہ کانگریس کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ایسا اقدام امریکی قومی مفاد میں ہے۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد بل اب ایوانِ نمائندگان میں جائے گا، جہاں 31 اگست کو اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔ منظوری کی صورت میں اسے صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

اس قانون میں روس کے علاوہ ایران سے متعلق بھی اہم شق شامل ہے۔ اس کے تحت 1996 کے ایران پابندیوں کے قانون کی مدت 2031 تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ایران کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

امریکی سینیٹ میں بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو پر دباؤ بڑھانا ہے۔ دوسری جانب بھارت اور چین جیسے بڑے خریداروں پر 100 فیصد اضافی ٹیرف کی ممکنہ منظوری سے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘