یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے روسی تیل پر 30 دن کی رعایت دینا ’صحیح فیصلہ نہیں‘ اور یہ روس کی یورین میں 4 سال سے جاری جارحیت روکنے میں مدد نہیں دے گا۔ زیلنسکی نے اس اقدام کو روس کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر اضافی فنڈ فراہم کرنے والا قرار دیا اور اسے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے بھارت کے لیے روسی تیل کی خریداری پر 30 دن کی رعایت دیدی
یوکرائن کے صدر نے پیرس میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا کہ پابندیوں میں نرمی روس کی پوزیشن کو مضبوط کرے گی، وہ توانائی کی فروخت سے حاصل رقم ہتھیاروں پر خرچ کرے گا اور یہ سب ہمارے خلاف استعمال ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی خزانہ نے جمعرات کو روسی تیل پابندیوں میں 30 دن کی رعایت کا اعلان کیا تھا تاکہ ایران جنگ کی وجہ سے سمندر میں پھنسے روسی کارگو کو آزاد کیا جا سکے اور تیل کی قلت کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرِف لگانے کا بل منظور کرا لیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں پیداوار کی رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی بڑھتی قیمتیں روسی معیشت کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، کیونکہ ماسکو اپنی یورین کی مہم کو مالی مدد دینے کے لیے زیادہ تر تیل کی آمدنی پر انحصار کرتا ہے۔ پابندیاں روس کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج تھیں، تاہم اس رعایت کے بعد روس کی مالی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔














