کولمبیا میں دائیں بازو کے 48 سالہ قانون دان اور تاجر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے ملک کے نئے صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اپنے منصب کا سنبھالتے ہی انہوں نے مسلح گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے، سرکاری اخراجات میں 40 فیصد تک کمی لانے اور تیل و گیس کی صنعت کو دوبارہ فعال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
روایت سے ہٹ کر تقریب کا انعقاد
ڈی لا ایسپریلا نے حلف برداری کے لیے دارالحکومت بوگوٹا کی بجائے ملک کے جنوب مغربی اور کشیدہ شہر ‘کیلی’ (Cali) کا انتخاب کیا، جو طویل عرصے سے مسلح گروہوں کے خلاف لڑائی کا مرکز رہا ہے۔ اس اقدام کو سابق بائیں بازو کے صدر گوستاوو پیٹرو کی ’امن مذاکرات‘ کی پالیسی سے مکمل لاتعلقی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے منشیات فروشوں کی معاونت کا الزام لگا کر کولمبیا کے صدر اور اہل خانہ پر پابندی لگا دی
نئے صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ملک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ منشیات کی دہشت گردی کا بلاخوف و خطر خاتمہ کیا جائے گا اور اب مذاکرات کا آپشن مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔‘
معاشی و توانائی کی پالیسی
کولمبیا کے کاروباری طبقے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے معیشت اور توانائی کے شعبے کی بحالی کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تیل اور گیس کے مزید ذخائر کی تلاش اور ‘فریکنگ’ (fracking) کے عمل کو ذمہ دارانہ اور پائیدار طریقے سے آگے بڑھائے گی تاکہ سرکاری تیل ساز کمپنی (Ecopetrol) کو مضبوط کیا جا سکے۔
خارجہ پالیسی اور امریکا سے تعلقات
عوام میں ’ال تیگرے‘ (شیر) کے نام سے معروف ڈی لا ایسپریلا نے اپنی انتخابی مہم خود فنڈ کی تھی۔ ان کا اقتدار میں آنا خطے میں ایک بڑے نظریاتی بدلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کی کھلم کھلا حمایت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے کولمبیا سے کیوبا تک، وینزویلا کے بعد کونسے ممالک امریکی حملے کا شکار ہوسکتے ہیں؟
ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے تعاون سے قائم کردہ انسدادِ منشیات اتحاد ’شیلڈ آف دی امریکہز‘ میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی جبکہ کیوبا اور نکاراگوا سے تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے نئے کولمبیا انتظامیہ کو سیکیورٹی کی مد میں 1 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور احتجاج
حلف برداری کی تقریب کیلی کی ایک یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس کے گرد و پیش کی سڑکوں پر فوج اور بکتر بند گاڑیاں تعینات تھیں۔ تقریب میں اسپین کے شاہ فیلیپ ششم، ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی، چلی کے ہوسے انتونیو کاسٹ، پیرو کی کیکو فجی موری اور فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو سمیت عالمی اور علاقائی رہنماؤں نے شرکت کی۔
حلف برداری کے بعد جہاں صدر نے پچنچا بٹالین کا دورہ کر کے فوجیوں سے خطاب کیا، وہیں کیلی، بوگوٹا اور بارانکیلا کے مختلف علاقوں میں نئے صدر کی پالیسیوں کے خلاف شہریوں کی جانب سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔














