‘یونائیٹڈ فرنٹ آف افغانستان’ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جمعرات کی رات صوبہ غور کے ضلع الفاروق میں ایک اہم پیش قدمی کے دوران افغان طالبان کے بیس پر قبضہ کر لیا ہے۔ گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس آپریشن کے نتیجے میں طالبان کے 2 ارکان ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوئے ہیں۔
جمعہ، 7 اگست کو جاری کیے گئے ایک باضابطہ بیان میں گروپ کا کہنا تھا کہ اس نے کارروائی کے دوران طالبان کے پاس موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور دیگر ملٹری سامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
یونائیٹڈ فرنٹ نے اس کارروائی کی 2 مختلف ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں فائرنگ کی زبردست آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور ایک کمرے کے اندر بھاری مقدار میں اسلحہ بھی دکھایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے کے فوراً بعد کئی طالبان جنگجو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے حکام یا ترجمان کی جانب سے اس دعوے پر فی الحال کوئی رسمی موقف یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ فیروزکوہ شہر کے شمال مغرب میں واقع ‘الفاروق’ کو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی انتظامی اکائی (ضلع) کا درجہ دیا گیا تھا۔
جنرل سمیع سادات کی قیادت میں متحرک ‘یونائیٹڈ فرنٹ آف افغانستان’ نے 1 اگست سے طالبان کی حکومت کے خلاف اپنی باقاعدہ عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ چند دنوں میں اس گروپ نے غور کے علاوہ قندھار، ہلمند، بادغیس، بدخشاں اور فاریاب میں بھی متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔













