امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے خصوصی ملاقاتوں میں زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے یا اس کی شدت میں کمی لانے کا راستہ تلاش کریں۔ انہیں تشویش ہے کہ دستیاب عسکری اختیارات کے محدود نتائج برآمد ہوں گے جبکہ اس کے ردِعمل میں وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں شروع ہو سکتی ہیں۔
سی این این نے اس معاملے سے باخبر تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنرل ڈین کین نے ان خدشات کا اظہار سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے سامنے کیا۔
رپورٹ کے مطابق، جنرل کین اور دیگر متعلقہ حکام کا ماننا ہے کہ محض فضائی طاقت کا استعمال تہران کو امریکی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدستور زمینی فوج بھیجنے سے گریز کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جنرل کین اور دیگر اعلیٰ حکام نے جولائی کے آخر میں کشیدگی بڑھانے کی ایک تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کی بڑی وجہ امریکی اتحادیوں اور خطے کی توانائی کی بنیادی تنصیبات پر ایرانی جوابی کارروائی کا ڈر تھا۔ خلیجی اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کی خبردار کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے فی الوقت وہ آپریشن ملتوی کر دیا تھا۔
رپورٹ میں امریکی دفاعی ذخائر، خاص طور پر ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز اور گائیڈڈ منیشنز (حساس ترین اسلحہ) کی تیزی سے ہوتی ہوئی کمی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث امریکا کے لیے ایک طویل جنگ کو جاری رکھنا دشوار ہو سکتا ہے۔
سی این این کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ جنرل کین نے صدر ٹرمپ کو عسکری خطرات سے آگاہ کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر جنگ بڑھانے کا حکم دیا گیا تو امریکی افواج ایران کو بھاری نقصان پہنچانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اب ایسے درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں جسے صدر ٹرمپ ایک سیاسی و سفارتی فتح کے طور پر پیش کر سکیں، جبکہ سفارت کاری کے لیے بھی راستہ کھلا رہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ممکنہ معاہدہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔













