ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، تہران کے مطالبات رکاوٹ بن گئے، وال اسٹریٹ جرنل

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو کسی نئے جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے پر آمادہ ہیں، تاہم تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی گئی سخت شرائط نے تنازع سے نکلنے کی امریکی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے اعلیٰ معاونین سے نجی گفتگو میں یہ خیال پیش کیا کہ امریکا جوہری معاہدے کے بغیر بھی جنگ سے نکل سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت بحال ہوجاتی ہے تو ٹرمپ واشنگٹن کی فوجی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے یا موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کے زیادہ خواہاں ہوسکتے ہیں۔

ایران کے سخت مطالبات

تاہم ہفتے کے روز ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے متعدد سخت شرائط سامنے آنے کے بعد ٹرمپ کے لیے تنازع سے نکلنے کا راستہ مزید مشکل ہوگیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تہران نے اربوں ڈالر کے امریکی معاوضے، خطے سے امریکی فوجی انخلا اور ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات پیش کیے ہیں۔

اخبار کے مطابق آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایران کی جانب سے یہ اب تک کی سب سے بڑی قیمت کا مطالبہ ہے۔

دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد باقر ذوالقدر نے جمعہ کو کہا کہ امریکا اپنا طرز عمل درست کیے بغیر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی توقع نہ رکھے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے لیے چھ شرائط پیش کی ہیں۔

ان شرائط میں ایران، لبنان، یمن، عراق اور فلسطین کے خلاف تمام امریکی جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ، ایران کو زبانی دھمکیاں نہ دینا، بحری ناکہ بندی ختم کرکے امریکی بحری اور فضائی افواج کا انخلا، جنگوں سے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ، ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنا اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنا شامل ہیں۔

امریکی مؤقف

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ایران کے خلاف اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کرچکا ہے اور اب صدر ٹرمپ کی ترجیح عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا ہے۔

ایک وائٹ ہاؤس عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اگر ایران کی جانب سے جہازوں کو مزید نشانہ بنایا گیا تو امریکا فوجی کارروائی کا آپشن بدستور برقرار رکھے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو صدر ٹرمپ ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرسکتے ہیں۔

ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کے موقع پر ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ میرا خیال ہے یہ بہت جلد ختم ہوجائے گی‘۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اس وقت ’کسی حد تک کھلی ہوئی‘ ہے، تاہم امریکی بحریہ کی جانب سے عائد ناکہ بندی کے باعث امریکا اس آبی گزرگاہ کو کنٹرول کررہا ہے۔

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مشرق وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر مونا یعقوبیان کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سخت شرائط نے صدر ٹرمپ کے لیے جنگ سے ایسا راستہ اختیار کرنا مشکل بنا دیا ہے جس سے وہ سیاسی طور پر اپنی ساکھ بھی برقرار رکھ سکیں۔

یوریشیا گروپ سے وابستہ ایران امور کے ماہر گریگوری بریو نے کہا کہ ایرانی قیادت کو مکمل یقین ہے کہ ٹرمپ جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں اور ان کی توجہ آبنائے ہرمز کھلوانے پر مرکوز ہے، اسی لیے تہران مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کررہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ فی الحال سفارتی تعطل سے نمٹنے کے لیے صبر سے کام لینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، خصوصاً اس وقت جب توانائی کی قیمتیں نسبتاً قابو میں ہیں۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں کسی طویل بندش یا محدود آمدورفت سے عالمی تیل و گیس کی سپلائی اور قیمتوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

یوں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی تنازع اب صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ آبنائے ہرمز، امریکی فوجی موجودگی، پابندیوں، ایرانی اثاثوں اور جنگی نقصانات کے معاوضے جیسے معاملات بھی کسی ممکنہ جنگ بندی یا طویل المدت سمجھوتے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’وہ مجھے گالیاں دیتی ہے، میں برداشت کرلیتا ہوں‘، گووندا نے اہلیہ کے الزامات پر خاموشی توڑ دی

’ایکس‘ پر کمائی کے لیے اب نیا نظام متعارف، کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات

2 بڑے گلوکاروں نے ’پاکستان زندہ باد‘ گانے سے انکار کیا، ساحر علی بگا کا بڑا انکشاف

کیا عاطف اسلم موسیقی چھوڑنے والے ہیں؟ گلوکار نے خاموشی توڑ دی

ویڈیو

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روز بدلنے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار