میوزک اور پوڈکاسٹ اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے ایک نئے فیچر کی آزمائش شروع کر دی ہے جس کے ذریعے پریمیم صارفین پوڈکاسٹ کے آغاز، اسپانسر پیغامات اور اشتہاری وقفوں کو ایک کلک کے ذریعے چھوڑ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اسپاٹیفائی کی 20ویں سالگرہ: صارفین کے لیے یادگار ‘ٹائم کیپسول’ متعارف
رپورٹس کے مطابق کچھ صارفین نے گزشتہ ہفتے اس نئے اسکِپ اہیڈ‘ بٹن کو دیکھا جو خاص طور پر اشتہاری وقفوں کے دوران ظاہر ہو رہا تھا۔ اس فیچر کی مدد سے صارفین اشتہار ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر پوڈکاسٹ کے اگلے حصے پر جا سکیں گے۔
اس سے پہلے صارفین کو اشتہارات چھوڑنے کے لیے اسپاٹیفائی کے روایتی 15 سیکنڈ آگے جانے والے بٹن کو کئی بار دبانا پڑتا تھا جس کے باعث بعض اوقات اشتہار ختم ہونے سے پہلے ہی صارف مطلوبہ حصے سے آگے نکل جاتا تھا۔
تاہم اسپاٹیفائی نے ابھی تک اس نئے فیچر کے باضابطہ اجرا کا اعلان نہیں کیا اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا یا صرف محدود پیمانے پر آزمایا جا رہا ہے۔
پوڈکاسٹرز کی آمدنی پر ممکنہ اثرات
اگرچہ بہت سے اسپاٹیفائی پریمیم صارفین سمجھتے ہیں کہ سبسکرپشن لینے کے بعد انہیں ہر قسم کے اشتہارات سے نجات مل جاتی ہے لیکن پوڈکاسٹ اس معاملے میں مختلف ہیں۔
مزید پڑھیے: اسپاٹیفائی کا انسانی گلوکاروں کو اے آئی سے الگ کرنے کے لیے بڑا اقدام، ویریفائیڈ بیج متعارف کرادیا
بہت سے پوڈکاسٹرز اپنے پروگرام میں اسپانسرز کے پیغامات خود ریکارڈ کرکے شامل کرتے ہیں جو آڈیو فائل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے اشتہارات اسپاٹی فائی کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں۔
پوڈکاسٹ کی دنیا میں اسپانسر پیغامات سننے والے صارفین کی توجہ ہی آمدنی کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر صارفین آسانی سے ان اشتہارات کو چھوڑنے لگیں تو اس سے پوڈکاسٹرز اور اسپانسرز دونوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیچر اسپاٹیفائی کی سبسکرپشن حکمت عملی سے بھی جڑا ہوا ہے جس کے تحت کمپنی اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے فروخت کیے جانے والے اشتہارات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے جبکہ دیگر ذرائع سے شامل کیے گئے اسپانسر پیغامات کو اسکیپ کرنے کی سہولت دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسپاٹیفائی حقائق: جشن کوئی بھی ہو انداز ایک، بھنگڑا پاکستانیوں کی پہلی پسند
اس نئے فیچر کو پوڈکاسٹ انڈسٹری کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے جہاں صارفین کو زیادہ سہولت ملے گی، وہیں اشتہارات پر انحصار کرنے والے تخلیق کاروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔














