پاکستان ویمنز جونیئر ایشیا کپ 2026 میں شرکت کرے گا، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے خواتین ہاکی کی بحالی کے لیے قومی تربیتی اور سلیکشن کیمپ لگانے کا اعلان کردیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق قومی تربیتی اور انتخابی کیمپ 18 اگست سے اسلام آباد میں شروع ہوگا، جس میں حال ہی میں ختم ہونے والی نیشنل گرلز انڈر 18 اور انڈر 21 چیمپیئن شپ کی ٹاپ 4 ٹیموں کی کھلاڑیوں کو مدعو کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نیدرلینڈ کے رچرڈ ڈی سنائجر پاکستان ویمنز ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر
فیڈریشن نے بتایا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی ٹرائلز کے ذریعے کیمپ میں شامل کیے جانے پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے کہا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا، جس میں ان کی کارکردگی، تکنیکی صلاحیت، فٹنس، کھیل کی سمجھ بوجھ اور نظم و ضبط کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کھلاڑیوں میں بھرپور صلاحیت، جذبہ اور ٹیلنٹ موجود ہے، کوشش ہے کہ انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کے روشن مستقبل کی اسٹار کھلاڑی بن سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم آج پاکستان پہنچے گی، 4 بین الاقوامی ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے
فیڈریشن کے مطابق تربیتی کیمپ میں فٹنس، جدید کوچنگ، حکمت عملی کی تیاری، ویڈیو تجزیے اور عالمی معیار کی تیاریوں پر توجہ دی جائے گی، جبکہ اس کا مقصد مستقبل کی قومی خواتین ٹیموں کے لیے کھلاڑیوں کا وسیع پول تیار کرنا بھی ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ویمنز ہاکی کی بحالی کے لیے نیشنل ویمنز ہاکی چیمپئن شپ اور جونیئر سطح کے مقابلوں کے کامیاب انعقاد کے بعد مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محی الدین احمد وانی کے مطابق مقصد صرف چین میں ہونے والے ایونٹ میں شرکت کرنا نہیں بلکہ گرلز ہاکی کے لیے اسکول، بنیادی سطح اور جونیئر و سینئر ٹیموں تک ایک مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ہاکی ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی کوریا کو 1-3 سے شکست دے دی
فیڈریشن کے مطابق ملک بھر میں گرلز ہاکی کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت اب تک 706 اسکول رجسٹرڈ کیے جاچکے ہیں، جبکہ صوبائی ایسوسی ایشنز، کوچز اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے نوجوان کھلاڑیوں کی تلاش اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔














