پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے خواتین کی ہاکی کو دوبارہ مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی حکمت عملی کے تحت معروف ڈچ کوچ رچرڈ ڈی سنائجر کو پاکستان ویمنز ہاکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا سیریز 2026، شاندار فتح پر صدر مملکت کی پاکستان ویمنز ٹیم کو مبارکباد
منگل کو جاری ہونے والے پی ایچ ایف کے اعلامیے کے مطابق رچرڈ ڈی سنائجر کو نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں اعلیٰ سطح پر کوچنگ اور کھلاڑیوں کی تربیت کا 2 دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ وہ کے ایچ سی ڈریگنز، ریپڈ ٹیمسے اور ایل ایم ایچ سی لارن میں ٹیکنیکل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ ایچ سی روٹرڈیم اور لارن سمیت متعدد معروف ویمنز ہاکی کلبوں کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نیدرلینڈز کی جونیئر قومی ٹیموں اور کئی بین الاقوامی ہاکی ڈویلپمنٹ پروگرامز سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
پی ایچ ایف کے مطابق رچرڈ ڈی سنائجر قومی کوچنگ ایڈوائزر ہرمن کروس اور دیگر کوچنگ اسٹاف کے ساتھ مل کر خواتین کی قومی ٹیم کے تکنیکی، جسمانی اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے پر کام کریں گے۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ نئے ہیڈ کوچ پاکستانی ویمنز ہاکی کھلاڑیوں کے لیے یورپ کے مختلف ہاکی کلبوں میں تربیت اور کھیلنے کے مواقع بھی پیدا کریں گے تاکہ انہیں عالمی سطح کے بڑے مقابلوں کی بہتر تیاری کا موقع مل سکے۔
پی ایچ ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں خواتین کی ہاکی کئی دہائیوں تک عدم توجہی کا شکار رہی جس کے باعث کوچنگ، بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی مواقع کی شدید کمی رہی۔
تاہم اب فیڈریشن اس صورتحال کو بدلنے کے لیے پرعزم ہے اور اسکول کی سطح سے قومی ٹیم تک لڑکیوں کی ہاکی کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار ترقیاتی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے کہا کہ فیڈریشن خواتین کھلاڑیوں کو بہترین سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹیاں بہترین مواقع کی مستحق ہیں اور رچرڈ ڈی سنائجر کی تقرری اور ہرمن کروس کی رہنمائی میں ہم خواتین کی ہاکی کے لیے ایک جدید اور اعلیٰ معیار کا پروگرام تشکیل دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ایف خواتین کھلاڑیوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرے گی اسکولوں سے قومی ٹیم تک ٹیلنٹ کی ترقی کے نظام کو مضبوط بنائے گی اور پاکستان کو بین الاقوامی ویمنز ہاکی میں دوبارہ نمایاں مقام دلانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔














