امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے گزشتہ 5 ماہ کے فوجی تنازع میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کے مطالبے کے بعد وہ بھی ایران سے ان افراد کے لیے معاوضے کا مطالبہ کریں گے جو ایرانی کارروائیوں میں ہلاک یا شدید زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران کے نمائندے گزشتہ 5 ماہ کے فوجی تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کررہے ہیں، حالانکہ ان کے بقول مذاکرات یا ملاقاتوں میں اس معاملے کا کبھی ذکر نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ یہ ایک دلچسپ خیال ہے، کیونکہ اب وہ بھی ایران سے ان تمام افراد کے لیے معاوضے کا مطالبہ کررہے ہیں جنہیں ایرانی کارروائیوں، سڑک کنارے نصب بموں اور مختلف تنازعات میں ہلاک یا زخمی کیا گیا۔
جنرل سلیمانی اور یو ایس ایس کول کا حوالہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ان کارروائیوں کی قیادت ابتدائی طور پر جنرل قاسم سلیمانی سمیت دیگر لوگوں نے کی، اور اس میں امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس کول‘ پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے خاندانوں کے لیے بھی معاوضے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ایران میں احتجاج کرنے والوں کے خاندانوں کے لیے بھی معاوضے کا مطالبہ
امریکی صدر نے مزید کہاکہ گزشتہ 50 برس کے دوران ایران میں ہلاک کیے جانے والے لاکھوں بے گناہ مظاہرین کے خاندانوں کو بھی معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران ایران میں 52 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کردی ہے کہ آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں اس معاملے کو مضبوطی سے شامل کیا جائے۔














