ایک زمانے میں خصوصاً مغربی ممالک میں دھوپ میں تپی ہوئی جلد کو صحت، خوشحالی اور خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن جلد کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرے نے گزشتہ کئی دہائیوں میں سورج سے متعلق لوگوں کی سوچ بدل دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد نبویؐ کی دھوپ گھڑی، اسلامی سائنسی ورثے کی منفرد یادگار
اب ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر دھوپ سے دور رہنا بھی ضروری نہیں بلکہ محدود اور محتاط انداز میں دھوپ لینا صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دھوپ کی مناسب مقدار جسم میں وٹامن ڈی بنانے، ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت برقرار رکھنے، مدافعتی نظام کو بہتر انداز میں کام کرنے، نیند اور ذہنی کیفیت پر مثبت اثر ڈالنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم بہت زیادہ اور بغیر تحفظ کے دھوپ میں رہنا سن برن، جلد کی قبل از وقت عمر رسیدگی، آنکھوں کو نقصان اور جلد کے سرطان کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
دھوپ سے متعلق ہماری سوچ کیسے بدلی؟
سنہ1923 میں مشہور فرانسیسی ڈیزائنر کوکو شانل کے بحیرۂ روم کے سفر سے واپس آنے کے بعد ان کی سانولی رنگت کی تصاویر نے مغربی دنیا میں دھوپ سے جلد کو سانولا کرنے کے رجحان کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد دھوپ میں بیٹھنا اور ’صحت مند ٹین‘ حاصل کرنا فیشن اور سماجی حیثیت کی علامت بن گیا۔
20ویں صدی کے ابتدائی اور وسطی عشروں میں سورج کی روشنی کو علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ’ہیلیوتھراپی‘ کے ذریعے بعض مریضوں، خصوصاً رکیٹس اور تپِ دق کے مریضوں کو دھوپ میں رکھنے کا رواج تھا۔
مزید پڑھیے: کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر
لیکن گزشتہ 50 برس کے دوران جلد کے سرطان کے بڑھتے ہوئے واقعات نے طبی ماہرین کو سورج کی شعاعوں کے نقصانات پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کیا۔ نتیجتاً صحت عامہ کی مہمات میں دھوپ سے بچنے اور سن اسکرین کے استعمال پر زیادہ زور دیا جانے لگا۔
اب سائنسی تحقیق نے اس معاملے کو قدرے پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق محدود اور مناسب دھوپ ذہنی صحت، وٹامن ڈی اور جسم کے بعض دوسرے نظاموں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ دیر تک بغیر تحفظ کے دھوپ میں رہنا صحت مند ہے۔
دھوپ جسم کے لیے کیوں ضروری ہے؟
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کی پروفیسر ریبیکا میسن کے مطابق مناسب وٹامن ڈی جسم میں سوزش کو قابو کرنے، بیرونی جراثیم کے خلاف مدافعتی ردعمل کو بہتر بنانے اور مدافعتی نظام کو اپنے ہی خلیوں پر حملہ کرنے سے روکنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
دھوپ میں موجود الٹرا وائلٹ اے یعنی یو وی اے شعاعیں جلد میں نائٹرک آکسائیڈ کے اخراج کا باعث بھی بن سکتی ہیں جس سے خون کی نالیاں پھیلتی ہیں اور بلڈ پریشر کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: رات کی ڈیوٹی صحت پر کتنی بھاری پڑتی ہے؟ سائنسدانوں نے بہتر نیند کا نیا طریقہ بتا دیا
سویڈن میں تقریباً 29 ہزار 500 خواتین پر 20 سال تک کی جانے والی ایک تحقیق میں زیادہ دھوپ سے گریز کرنے والی خواتین میں تمام وجوہات سے موت کی شرح سب سے زیادہ دھوپ لینے والے گروپ کے مقابلے میں تقریباً دگنی دیکھی گئی۔ تاہم اسی طرح کی تحقیق میں مصنوعی دھوپ یعنی سن بیڈ کے استعمال کو زیادہ مجموعی اور سرطان سے متعلق اموات کے خطرے سے بھی جوڑا گیا۔
اس لیے ماہرین قدرتی دھوپ کی محدود مقدار اور مصنوعی سن بیڈ کے استعمال کو ایک جیسا نہیں سمجھتے۔
صبح کی دھوپ نیند اور دماغ کے لیے بھی اہم
دھوپ کا تعلق صرف وٹامن ڈی سے نہیں۔ دن کی روشنی ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی یعنی ’سرکیڈین ردھم‘ کو بھی منظم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
صبح کی روشنی میں موجود نیلی شعاعیں دماغ کو یہ سگنل دیتی ہیں کہ دن شروع ہو چکا ہے۔ اس عمل سے کورٹیسول کی سطح میں اضافہ اور نیند لانے والے ہارمون میلاٹونن میں کمی ہوتی ہے جس سے انسان زیادہ بیدار اور توانا محسوس کر سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دن کے وقت روشنی میں زیادہ رہنے کا تعلق بہتر ذہنی کارکردگی، ردعمل کے وقت اور یادداشت سے ہو سکتا ہے۔ ایک بڑی تحقیق میں 3 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد دن کے وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی روشنی میں رہنے کو ڈیمنشیا کے کم خطرے سے جوڑا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں کون سے کپڑے پہنیں؟ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ماہرین کے بہترین مشورے
دھوپ دماغ میں سیروٹونن کی سطح بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہے جو مزاج اور توجہ پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے برعکس دن کی روشنی سے مسلسل کم ایکسپوژر کا تعلق بعض افراد میں افسردگی، کم مزاجی اور بے خوابی سے دیکھا گیا ہے۔
تو پھر روزانہ کتنی دھوپ کافی ہے؟
ماہرین کے مطابق اس سوال کا ایک ایسا مقررہ جواب نہیں جو ہر شخص پر یکساں لاگو ہو۔ دھوپ کی ضرورت عمر، جغرافیائی مقام، موسم، جلد کی رنگت اور جلد کے سرطان کے خطرے سمیت کئی عوامل پر منحصر ہے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کی پروفیسر ریبیکا میسن کے مطابق وٹامن ڈی بنانے کے لیے دھوپ کا فائدہ اس وقت زیادہ ہو سکتا ہے جب یو وی بی شعاعیں زیادہ ہوں، یعنی عموماً دن کے درمیانی حصے میں، لیکن کم وقت کے لیے اور باقاعدگی سے۔
ہلکی رنگت رکھنے والے افراد کے لیے اکثر جسم کے ہاتھوں، بازوؤں یا ٹانگوں کے کچھ حصے کو مختصر وقت کے لیے دھوپ میں رکھنا کافی ہو سکتا ہے۔ تاہم جہاں یو وی کی شدت بہت زیادہ ہو وہاں صبح یا دوپہر کے بعد نسبتاً کم شدت کے وقت دھوپ لینا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’اوپر سورج نیچے آگ‘: پاکستان کے بھٹہ مزدور یومیہ ہزار روپے سے بھی کم اجرت کے لیے جھلسنے پر مجبور
گہری رنگت رکھنے والے افراد میں جلد میں موجود میلانن قدرتی طور پر یو وی شعاعوں سے کچھ تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن یہی میلانن جلد میں وٹامن ڈی بننے کے عمل کو نسبتاً سست بھی کر دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں برطانیہ کے موسم بہار اور گرمیوں کے دوران گہری بھوری رنگت رکھنے والے افراد کے لیے دوپہر کے وقت تقریباً 25 منٹ کی دھوپ کو وٹامن ڈی کی مناسب مقدار بنانے سے جوڑا گیا۔
تاہم یہ وقت ہر ملک اور ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہو سکتا۔
یو وی انڈیکس کیوں اہم ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ صرف گھڑی دیکھ کر دھوپ میں رہنے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ’یو وی انڈیکس‘ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
یو وی انڈیکس زمین تک پہنچنے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی مجموعی شدت کو صفر سے 11 یا اس سے زیادہ کے پیمانے پر ظاہر کرتا ہے۔ جتنا زیادہ یو وی انڈیکس ہوگا جلد اور آنکھوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
بہت زیادہ سفید یا حساس جلد رکھنے والے افراد جن کے خاندان میں میلانوما یا جلد کے سرطان کی تاریخ موجود ہو، جن کے جسم پر بہت زیادہ تل ہوں یا جو مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات استعمال کرتے ہوں انہیں دھوپ سے زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ایسے افراد اگر دھوپ میں جائیں تو مختصر وقت کے لیے جسم کی زیادہ سطح کو ایکسپوز کرنے کے بجائے کم وقت کے لیے احتیاط سے دھوپ لینا بہتر ہو سکتا ہے جس کے بعد جلد کو ڈھانپنا ضروری ہے۔
البتہ بعض نایاب حالات، مثلاً البینزم میں مبتلا افراد کے لیے بغیر تحفظ کے دھوپ میں رہنا مناسب نہیں ہو سکتا۔
زیادہ دھوپ کے نقصانات بھی ہیں
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے جسم میں وٹامن ڈی کی پیداوار لامحدود طور پر نہیں بڑھتی لیکن سن برن، جلد پر جھائیاں اور دھبے، قبل از وقت عمر رسیدگی اور جلد کے سرطان کا خطرہ ضرور بڑھ جاتا ہے۔
برطانیہ میں میلانوما کے نئے کیسز کی سالانہ تعداد پہلی بار 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سرطان سے متعلق ادارے کے مطابق ضرورت سے زیادہ یو وی شعاعوں کا سامنا اور سن بیڈ کا استعمال اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 10 میں سے تقریباً 9 کیسز سے بچا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: سورج کی اب تک کی سب سے واضح تصاویر، خطرناک شمسی طوفانوں کے راز سے پردہ اٹھنے لگا
زیادہ دھوپ آنکھوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے اور موتیا بننے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین دھوپ میں باہر نکلتے وقت یو وی 400 تحفظ رکھنے والی عینک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے خطرات بڑھ رہے ہیں
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی بھی دھوپ سے متعلق خطرات کو بڑھا رہی ہے۔ دنیا کے بعض ایسے خطے جہاں پہلے موسم نسبتاً ٹھنڈا رہتا تھا اب وہاں گرمی کی لہریں اور طویل گرم موسم زیادہ عام ہو رہے ہیں۔
اسکینڈینیویا میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران میلانوما کے واقعات میں سالانہ 4 فیصد سے کم اضافہ دیکھا گیا ہے جسے محققین نے بڑھتی ہوئی گرمی اور طویل موسم گرما سے جوڑا ہے۔
بچپن اور نوجوانی میں دھوپ سے ضرورت سے زیادہ ایکسپوژر خاص طور پر اہم ہے کیونکہ زندگی کے پہلے 20 برسوں میں دھوپ میں رہنے کی مقدار مستقبل میں جلد کے سرطان کے خطرے پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
دھوپ کم ملے تو کیا ہوگا؟
دوسری طرف ایسے علاقوں میں رہنے والے افراد جہاں سردیوں میں سورج کی روشنی کم ہوتی ہے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ گہری رنگت رکھنے والے افراد، زیادہ تر وقت گھر کے اندر رہنے والے لوگ اور وہ افراد جو اپنی جلد کو زیادہ تر ڈھانپ کر رکھتے ہیں بھی اس کمی کے زیادہ خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زمین سالانہ مدار میں سورج سے سب سے زیادہ دور پہنچ گئی، کیا گرمی کم ہوجائے گی؟
وٹامن ڈی کی طویل عرصے تک شدید کمی ہڈیوں کی کمزوری اور بچوں میں رکیٹس جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
تاہم وٹامن ڈی کی کمی کو بعض صورتوں میں سپلیمنٹس کے ذریعے بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وٹامن ڈی کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ روزانہ 4 ہزار آئی یو یعنی 100 مائیکروگرام سے زیادہ مقدار کو عام طور پر نقصان دہ سمجھا جاتا ہے اور اس سے خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھنے، ہڈیوں، گردوں اور دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
’کم مگر باقاعدگی سے‘
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی پروفیسر جوان مین سن کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کے لیے دھوپ کی صرف کم سے معتدل مقدار درکار ہوتی ہے اور طویل عرصے تک بغیر تحفظ کے دھوپ میں رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق بالآخر مقصد دھوپ سے مکمل طور پر بچنا نہیں بلکہ اس کے فوائد اور نقصانات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
مختصر اور باقاعدہ دھوپ، مناسب اوقات میں باہر نکلنا، یو وی انڈیکس کو دیکھنا، جلد کو ضرورت کے مطابق ڈھانپنا، سن اسکرین اور دھوپ کی عینک کا استعمال اس توازن کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اسپین کا وہ ننھا گاؤں جہاں ایک ہی رات میں 2 بار غروب آفتاب دکھائی دے گا
کم مقدار، باقاعدگی کے ساتھ اور اپنی جلد اور ماحول کے مطابق احتیاط کے ساتھ۔ یہ ہے دھوپ کے معاملے میں ماہرین کا بنیادی پیغام۔














