بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے تصادم نے سنگین صورتحال اختیار کرلی، رواں سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران جنگلی جانوروں کے حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک جبکہ اسی عرصے میں 45 سے زائد شیر ہلاک ہوچکے ہیں۔
ریاست کے محکمہ جنگلات کے اعداد و شمار کے مطابق جنگلی جانوروں کے حملوں میں سب سے زیادہ انسانی ہلاکتیں شیروں کے حملوں سے ہوئیں۔ مجموعی 50 ہلاکتوں میں 22 افراد شیر، 8 جنگلی سور، 7 ہاتھی، 4 ریچھ اور ایک شخص تیندوے کے حملے میں ہلاک ہوا۔
مزید پڑھیں: لاہور میں شیر کا شہریوں پر حملہ، ’شیر امیر لوگ رکھتے ہیں، امیروں کے لیے کونسا قانون ہے؟‘
اعداد و شمار کے مطابق 50 میں سے 30 ہلاکتیں صرف مارچ، اپریل اور مئی کے دوران ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق انہی مہینوں میں مقامی دیہاتی، خصوصاً قبائلی برادریاں، جنگلات میں تیندو کے پتے اور مہوا کے پھول جمع کرنے کے لیے زیادہ جاتی ہیں، جس سے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان آمنا سامنا بڑھ جاتا ہے۔
شیروں کے حملوں سے ہونے والی 22 ہلاکتوں میں سے 14 مہاکوشال کے جنگلاتی علاقے، خصوصاً سیونی میں ہوئیں، جبکہ مزید 7 ہلاکتیں بندھوگڑھ ٹائیگر ریزرو اور ملحقہ علاقوں میں رپورٹ ہوئیں۔
‘Cat 22’ In Madhya Pradesh: 50 Humans Killed, 45 Tigers Dead In Just 8 Monthshttps://t.co/NJhRzU8YhC@HussainAhmedCh8 @KhUsamaIqbal #Tiger pic.twitter.com/vFk4BAcWgz
— Media Talk (@mediatalk922) August 11, 2026
محکمہ جنگلات کے مطابق مدھیہ پردیش میں 2020-21 سے 2024-25 کے درمیان جنگلی جانوروں کے حملوں میں 406 افراد ہلاک اور 5,804 زخمی ہوئے، جبکہ 72,627 مویشی بھی متاثر ہوئے۔ اس عرصے میں حکومت نے انسانی ہلاکتوں اور مویشیوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے 88.38 کروڑ بھارتی روپے سے زائد معاوضہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں:اٹلی: سرکس کے دوران شیر کا مداری پر حملہ
رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش میں شیروں کی تعداد 2022 کی قومی مردم شماری میں 785 تک پہنچ گئی تھی اور اب حکام و ماہرین کے اندازے کے مطابق ریاست میں شیروں کی تعداد قریباً ایک ہزار ہے۔ جنگلات اور انسانی آبادی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور جنگلی حیات کی گزرگاہوں میں انسانی سرگرمیوں کے باعث انسان اور جانوروں کا تصادم بڑھ رہا ہے۔













