بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ ہزاروں مظاہرین نے ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کیا، جسے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مبینہ پرچہ لیک اور نقل سمیت بے ضابطگیوں کی مرکزی تحقیقاتی ادارے سے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
ریاستی دارالحکومت رانچی میں پرچم اٹھائے مظاہرین نے پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی اور اسمبلی کی طرف پیش قدمی کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا جبکہ آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔ پانی کی بوچھاڑ کے باوجود بعض مظاہرین نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے نعرے لگائے اور رقص کیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں طلبہ کا سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج، اسمبلی کی جانب مارچ
مقامی میڈیا کے مطابق جھڑپوں میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے، تاہم زخمیوں کی تعداد سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی۔
احتجاج میں شریک نوجوان پیوش کمار سونی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین پرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن حکومت نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔
مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارت کے مرکزی تحقیقاتی ادارے، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، سے سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صرف ایک آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات ہی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کی اصل حقیقت سامنے لاسکتی ہے۔
نوجوانوں کا الزام ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے امتحانات میں پرچے لیک ہونے، نقل اور دیگر بے ضابطگیوں کو روکنے میں حکام ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے لاکھوں نوجوانوں کے لیے میرٹ کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے مواقع کو متاثر کیا ہے۔
واضح رہے کہ جھارکھنڈ طویل عرصے سے بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمتیں نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں۔ سرکاری شعبے کی ملازمتوں میں ملازمت کا تحفظ، صحت کی سہولیات اور پنشن سمیت متعدد مراعات حاصل ہونے کی وجہ سے ان آسامیوں کے لیے مقابلہ انتہائی سخت ہوتا ہے۔
ریاست میں سرکاری بھرتیوں کے دوران عموماً لاکھوں امیدوار درخواستیں جمع کراتے ہیں اور بہت سے نوجوان برسوں تک امتحانات کی تیاری کرتے رہتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں حالیہ ایک بھرتی کے دوران صرف 2 ہزار 25 آسامیوں کے لیے تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ایک اور بھرتی میں 510 آسامیوں کے لیے 3 لاکھ 22 ہزار سے زائد امیدواروں نے مقابلہ کیا۔
جھارکھنڈ میں کانگریس کی اتحادی ایک علاقائی جماعت کی حکومت ہے، جس نے احتجاج کے بعد صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جاچکے ہیں اور حکومت مزید بات چیت کے لیے بھی تیار ہے۔
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور مسائل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔
امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ پہلے ہی اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کا سبب بن چکا ہے۔ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین کو امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ کمیشن کے تین ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بی جے پی کی اوچھی حرکتیں: جھارکھنڈ میں احتجاج کے دوران اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی
جھارکھنڈ میں جاری احتجاج بھارت کے نوجوانوں میں سرکاری امتحانات اور بھرتیوں کے نظام میں مبینہ بدعنوانی، معیاری ملازمتوں کی کمی اور میرٹ متاثر ہونے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر امتحانات میں پرچے لیک ہونے، نقل اور سیاسی اثر و رسوخ جیسے مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان برقرار رہے گا۔
بھارت میں نوجوان آبادی کا حجم بھی اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بے روزگاری کی شرح کم ہوکر 9.9 فیصد رہ گئی، تاہم 2026 میں عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 15 سے 25 سال عمر کے تقریباً 40 فیصد گریجویٹ روزگار سے محروم ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمتوں کے محدود مواقع اور ان کے لیے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث امتحانات میں شفافیت نوجوانوں کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرچکی ہے، جبکہ حالیہ احتجاج حکومت کے لیے بھرتی کے نظام میں شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔













