بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں طلبہ کا سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج، اسمبلی کی جانب مارچ

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، سیکڑوں طلبہ نے ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کیا جبکہ متعدد طلبہ بھوک ہڑتال پر بھی ہیں۔

جھاڑکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں احتجاج کا سلسلہ 29 جولائی سے جاری ہے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی سول سروس کے امتحانات کے انعقاد کے لیے نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: جھاڑکھنڈ پیپر لیک اسکینڈل: حکومت پردہ پوشی کرتی رہی، طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

طلبہ نے ریاستی حکومت کی جانب سے نجی کمپنی کے ذریعے کرائے گئے متعدد امتحانات منسوخ کرنے اور تحقیقات وفاقی پولیس سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کو سیکڑوں پولیس اہلکاروں نے خاردار تاروں سے بنے حصار کے پیچھے ریاستی اسمبلی کی عمارت کی سیکیورٹی سنبھال رکھی تھی، جبکہ مظاہرین حکومت سے مذاکرات میں مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کے بعد اسمبلی کی جانب مارچ کرتے رہے۔

طلبہ رہنما دیویندر ناتھ ماہتو سمیت کم از کم 6 مظاہرین بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ماہتو گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بی جے پی کی اوچھی حرکتیں: جھاڑکھنڈ میں احتجاج کے دوران اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی

انہوں نے بھارتی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں اور ریاستی سول سروس کے امتحانات کے انعقاد کے لیے نجی کمپنی کے استعمال کا خاتمہ کیا جائے۔

جھاڑکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے احتجاج ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے طلبہ کے بعض مطالبات تسلیم کیے ہیں، جبکہ امتحانات کی نگرانی کرنے والے ادارے کے کئی ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔

ہیمنت سورین نے اتوار کو خطاب میں کہا کہ ہر مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑؑھیں: حکومت سے کامیاب مذاکرات، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا

جھاڑکھنڈ میں طلبہ کا احتجاج نئی دہلی میں ہونے والی طلبہ تحریک سے مماثلت رکھتا ہے، جہاں امتحانی نظام میں مبینہ ناکامیوں کے خلاف 36 روز تک احتجاج جاری رہا تھا اور اس کے نتیجے میں اُس وقت کے وفاقی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

بھارت میں سرکاری ملازمتیں نوجوانوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، تاہم محدود سرکاری آسامیوں کے لیے لاکھوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کے باعث امتحانات کی شفافیت اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp