سہیل آفریدی کی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال، پی ٹی آئی میں اختلافات نمایاں

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے آئندہ ماہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اندر اس تاریخ اور احتجاجی حکمت عملی پر اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ کیوں مقرر کی گئی، جبکہ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی اس کال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ 27 ستمبر کی تاریخ کیوں دی گئی۔

پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کا مؤقف ہے کہ پارٹی کو اس تاریخ پر نظرثانی کرنی چاہیے اور احتجاج کے لیے جلد از جلد ایک واضح اور مؤثر حکمت عملی طے کی جانی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’ان کی اوقات ہی نہیں کہ یہ کوئی احتجاج کرسکیں، شیر افضل مروت کی پی ٹی آئی قیادت پر شدید تنقید

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک میں غیر ضروری تاخیر کارکنوں میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کی تاریخ سوچ سمجھ کر مقرر کی گئی ہے اور اس کے پیچھے تیاریوں سمیت متعدد وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق جو رہنما یا نمائندے اس تاریخ پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان کو میرے سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں فیصلے کی وجوہات سے آگاہ کیا جا سکے۔

علیمہ خان کا 27 ستمبر کی تاریخ پر سوال

عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی رہائی کے لیے وہ اور دیگر افراد ضرور باہر نکلیں گے، تاہم انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ 27 ستمبر کی کال کیوں دی گئی ہے۔

علیمہ خان نے کہاکہ ہم اکیلے نہیں ہیں، ہم سب عمران خان کی رہائی کے لیے ضرور نکلیں گے، یہ لوگ عمران خان کو انتظار کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 27 ستمبر سے پہلے 14 اگست بھی آتا ہے اور عمران خان ہمیشہ حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونے کی بات کرتے رہے ہیں۔

علیمہ خان نے مزید کہاکہ عمران خان ہمیشہ کہتے تھے کہ حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہوں، لیکن کیا خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا کوئی لائحہ عمل ہوگا؟

’عمران خان کی رہائی کے لیے ہمارا تو پارٹی سے یہی مطالبہ تھا کہ پارٹی تھوڑا پریشر بنائے تاکہ عمران خان کی رہائی ہو یا ان کا بہتر علاج تو ہو سکے۔‘

سہیل آفریدی کا علیمہ خان کے اعتراض پر جواب

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے علیمہ خان کا بیان سنا ہے، تاہم 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کرنے کے پیچھے موجود وجوہات سے آگاہ کرنے کے بعد وہ ان کا مؤقف سمجھ جائیں گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کی جو تاریخ دی گئی ہے، اس حوالے سے علیمہ خان کا بیان میں نے سنا ہے، تاہم جب ہم انہیں یہ وجوہات بتائیں گے کہ یہ تاریخ کیوں دی گئی، اس کا مقصد کیا تھا اور کن وجوہات و تیاریوں کے باعث اتنی دور کی تاریخ مقرر کی گئی، تو وہ ہماری بات مان جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ 27 ستمبر کی تاریخ پر جس کسی کو اعتراض ہے وہ مجھ سے رابطہ کرے، میں اس کو سمجھاؤں گا کہ کیوں اتنی دیر کی تاریخ دی ہے۔ جو لوگ پی ٹی آئی کے رہنما یا کوئی اور نمائندے 27 ستمبر کی تاریخ پر سوال اٹھا رہے ہیں، اس سے تحریک کو نقصان ہوگا۔

سہیل آفریدی کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے اندر سے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ احتجاج کے لیے اتنی دور کی تاریخ مقرر کرنے کے بجائے پارٹی کو جلد از جلد اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہیے۔

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کو 27 ستمبر کی تاریخ کو حتمی نہ سمجھتے ہوئے احتجاجی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ ان رہنماؤں کے مطابق اگر مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے تو اس کے لیے بروقت اور مؤثر احتجاجی لائحہ عمل ضروری ہے۔

پارٹی کے اندر موجود اختلافات میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ احتجاج کی قیادت اور اعلان کا اختیار کس کے پاس ہوگا اور کیا خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ پارٹی کی مجموعی حکمت عملی کا حصہ ہے یا یہ صوبائی قیادت کا فیصلہ ہے۔

سہیل آفریدی پر تحریک چلانے کے لیے پریشر ہے، عامر الیاس رانا

سینیئر تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی تمام قیادت پر دباؤ موجود ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے کسی بڑی احتجاجی سرگرمی کا اعلان کریں۔

انہوں نے کہاکہ پہلے کہا جاتا تھا کہ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ کسی بھی احتجاجی تحریک کا اعلان علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کریں گے، لیکن پھر اب وزیراعلیٰ نے تحریک کا اعلان کیوں کردیا؟

عامر الیاس رانا نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے ماضی میں عمران خان کی رہائی کے لیے فورس کے قیام سے متعلق اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بعد ازاں سپریم کورٹ جا کر سہیل آفریدی نے خود کہا تھا کہ اس حوالے سے کوئی پلان یا منصوبہ موجود نہیں تھا۔

’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا تھا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے فورس بنائیں گے، لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ جا کر سہیل آفریدی نے خود کہہ دیا کہ ان کا کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے، نہ کوئی ایسا پروگرام تھا۔‘

عامر الیاس رانا نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے لیے 7 ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے، تاہم پارٹی کے بعض حلقے اس طویل وقفے پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ علیمہ خان نے گزشتہ دنوں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارکنوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کا بھی خیال تھا کہ شاید 14 اگست کی تاریخ دی جائے گی، کیونکہ 14 اگست کے موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج بھی کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 27 ستمبر کی تاریخ دینے پر پی ٹی آئی کے مختلف گروپس میں اختلافات اور لڑائی جاری ہے۔ بعض حلقے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ 20 لاکھ افراد لے کر آئیں گے، تاہم میرا نہیں خیال کہ یہ دعویٰ ایک بڑھک سے زیادہ کچھ ہے۔

’اب نظریں پی ٹی آئی کی قیادت پر لگ گئیں‘

27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال کے اعلان کے بعد اب نظریں پی ٹی آئی کی مرکزی اور خیبرپختونخوا کی قیادت کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔ پارٹی کے اندر ایک جانب قیادت 27 ستمبر کی کال کو احتجاج کی تیاریوں کے لیے درکار وقت قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بعض رہنما اور کارکن جلد احتجاج شروع کرنے اور حکومت پر زیادہ مؤثر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: علیمہ خان کی بڑھتی سیاسی سرگرمیاں اور پی ٹی آئی قیادت غائب، کیا پارٹی پر قبضہ ہونے جارہا ہے؟

علیمہ خان کے بیان نے بھی پارٹی کے اندر جاری اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ تاریخ مقرر کرنے کی وجوہات واضح کیے جانے کے بعد اعتراضات دور ہو سکتے ہیں۔

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی قیادت 27 ستمبر کے اعلان پر قائم رہتی ہے یا پارٹی کے اندر سے اٹھنے والے اعتراضات کے بعد احتجاجی حکمت عملی، تاریخ یا طریقہ کار میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp