جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں پانی کا بحران سنگین ہوگیا ہے، جہاں پھٹی ہوئی پائپ لائنوں کے باعث روزانہ اندازاً 65 کروڑ 50 لاکھ لیٹر پانی ضائع ہورہا ہے اور شہریوں کو کئی کئی دن خشک نلکوں کا سامنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جوہانسبرگ کے علاقے ہل برو میں 17 سالہ طالبعلم تھندانی ماسانگو نے پانی کی تلاش میں خالی برتن ٹرالی پر رکھ کر 3 گھنٹے گزارے۔ اس کے رہائشی بلاک میں 3 سال سے زائد عرصے سے پانی کی فراہمی معطل ہے۔
پانی کی قلت آئندہ نومبر میں متوقع بلدیاتی انتخابات سے قبل حکومتی کارکردگی کا اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ شہریوں میں بنیادی سہولیات کی ناقص فراہمی پر غصہ بڑھ رہا ہے، جس سے حکمراں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کی حمایت بھی متاثر ہورہی ہے۔
جوہانسبرگ واٹر کے مطابق شہر کا پانی کا بنیادی ڈھانچہ انتہائی پرانا ہے اور کئی پائپ لائنیں 50 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔ ادارے کے سینئر مینیجر زاکھیل خوزایو نے اعتراف کیا کہ صورتحال سنگین ہے اور انتظامیہ مسائل سے آگاہ ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی بھی شہر کے پانی کے بحران کو مزید بڑھا رہی ہے، جبکہ میونسپلٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جولائی میں جنوبی افریقہ کے نیشنل ٹریژری نے مالیاتی انتظام کے تقاضے پورے نہ کرنے پر جوہانسبرگ کی فنڈنگ روک دی تھی۔ شہر کا رواں مالی سال کا 9710 کروڑ رینڈ (قریباً 6 ارب ڈالر) کا بجٹ بھی غیر یقینی مالی وسائل پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔
Johannesburg loses more than a third of its water supply daily due to burst pipes, with residents facing shortages and waiting for water trucks. Meanwhile, wealthier residents drill boreholes to secure water amid shortages https://t.co/cGmyNHZBQ7 pic.twitter.com/m4g9PxzEEv
— Reuters (@Reuters) August 11, 2026
پانی کی مسلسل قلت کے باعث شہر کے امیر علاقوں میں شہریوں نے متبادل انتظامات شروع کردیے ہیں۔ کئی افراد زیر زمین پانی حاصل کرنے کے لیے بور ہولز کھدوا رہے ہیں، جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ٹینک بھی نصب کیے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال
بورہول واٹر ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ گاؤتینگ، جس میں جوہانسبرگ اور دارالحکومت پریٹوریا شامل ہیں، میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران قریباً 10 ہزار بورہولز کھودے جاچکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی مسلسل قلت اور بلدیاتی نظام کی ناکامی نے انہیں شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جبکہ بعض علاقوں کے رہائشی عدالتی احکامات کے باوجود پانی کی بحالی کے منتظر ہیں۔













