ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

بدھ 12 اگست 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’کاکروچ‘ آج کل نیا سیاسی استعارہ بن چکا ہے۔ ہر طرف یہی لفظ گونج رہا ہے، کسی کے لیے یہ گالی ہے، کسی کے لیے تمغہ۔ آج بارہ اگست کو عالمی یوم نوجوانان ہے اور خاکسار کا جی چاہ رہا ہے کہ اس سارے شور سے ہٹ کر ایک اور جانور کی بات کی جائے۔ کاکروچ نہیں، خرگوش۔

  پہلے فرق سمجھ لیجیے۔ کاکروچ کی واحد خوبی یہ ہے کہ وہ مرتا نہیں۔ گندے نالے میں زندہ رہ لے گا، اندھیرے تہہ خانے میں مہینوں گزار دے گا، کہتے ہیں ایٹمی دھماکے میں بھی یہ بچ جائےگا کیونکہ شاید تابکاری بھی کسی حد تک سہہ جاتا ہے۔ البتہ کاکروچ کی اچیومنٹس کچھ نہیں، اس کی ساری صلاحیت بچ نکلنے میں خرچ ہو جاتی ہے۔

  اس کے برعکس خرگوش کی خوبی رفتار ہے۔ وہ زندہ رہنے کے لیے نہیں، پہنچنے کے لیے دوڑتا ہے۔ ایک علامت بقا کی ہے، دوسری آگے بڑھنے کی۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے لیے کون سی علامت چنیں گے؟

 وہ کہانی جس نے ہماری تین نسلیں خراب کیں

ذرا اس کہانی کی طرف آئیے جو ہم سب کو بچپن میں پڑھائی گئی۔ خرگوش اور کچھوے کی دوڑ۔ خرگوش تیز تھا، آگے نکل گیا، پھر درخت کے نیچے سو گیا، اور کچھوا آہستہ آہستہ چلتا ہوا جیت گیا۔ ہم نے اس سے سبق یہ نکالا کہ سست رفتاری میں برکت ہے۔ ’سلو اینڈ سٹیڈی ونز دا ریس۔‘ یہ جملہ ہمارے اسکولوں کی دیواروں پر لکھا رہا، تقریری مقابلوں میں دہرایا گیا، بزرگوں نے نصیحت کے طور پر ہر نئی نسل کو ذہن نشین کرایا۔

  اپنے بزرگوں اور استادوں سے معذرت مگر مجھے یہ ماننے میں ہمیشہ تامل رہا ہے۔ اصل کہانی میں خرگوش رفتار کی وجہ سے نہیں ہارا تھا، وہ غرور اور سستی کی وجہ سے ہارا تھا۔ سبق یہ تھا کہ راستے میں سویا مت کرو۔ ہم نے نتیجہ یہ نکالا کہ تیز چلنا ہی غلط ہے۔ یہ ترجمے کی غلطی نہیں، مزاج کی غلطی ہے۔

   مجھے تو یہ لگتا ہے کہ ہر تھکا ہارا، پسماندہ، پیچھے رہ جانے والا سماج ایسی کہانیاں پسند کرتا، انہیں پھیلاتا ہے۔ جو ان کی سست روی کو اخلاقی فضیلت بنا دیں۔ ہار کو صبر کہہ لیا جائے تو ہارنے کا دکھ باقی نہیں رہتا۔ پسماندگی کو قناعت کا نام دے دیا جائے تو کچھ کرنے کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ہمارا اجتماعی نفسیاتی بہانہ ہے، جسے ہم نے کہانی کی شکل دے کر نسل در نسل منتقل کیا۔

   عملی دنیا میں ہوتا کیا ہے؟ کیا کبھی کسی نے پوچھا کہ سیمی کنڈکٹر بنانے میں دوسرے نمبر پر کون تھا؟ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں تیسرے نمبر والا کون ہے؟ کوئی نہیں پوچھتا۔ وہاں ریس وہی جیتتا ہے جو تیز بھی ہو اور مسلسل بھی۔ تو یارو، ہمیں خرگوش ہی چاہئیں، مگر ایسے جو راستے میں سستانے نہ بیٹھیں، جن کا فوکس نہ ٹوٹے، جو منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں۔

   اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہمیں سروائیول کی جنگ میں مبتلا اور جیسے تیسے بچ جانےوالے کاکروچ نہیں بلکہ زمانہ اور دنیا فتح کرنے والے خرگوشوں کی ضرورت ہے۔

پہلے اپنے پاؤں پر کھڑے تو ہوں

  یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ نوجوان سیاست سے دور رہیں۔ ضرور آئیں، ان کے بغیر کچھ نہیں بدلے گا۔ عرض صرف اتنی ہے کہ اپنی زندگی کا واحد منصوبہ احتجاج کو نہ بنا لیں۔ قائداعظم نے طلبہ سے اپنے کئی خطابات میں یہی کہا تھا کہ پہلے تعلیم مکمل کرو، اپنے پاؤں پر کھڑے ہو، سیاست اس کے بعد۔ یاد رکھیں کمزور ہاتھ سے تالا نہیں ٹوٹتا۔

    تاریخ کی ایک مثال دیکھیں۔ جنوبی کوریا انیس سو ساٹھ کے عشرے میں افریقہ کے کئی ملکوں سے زیادہ غریب تھا۔ تین عشرے تک وہاں فوجی اور نیم آمرانہ حکومتیں رہیں۔ اس دوران صنعت کھڑی ہوئی، برآمدات بڑھیں، ایک پڑھا لکھا متوسط طبقہ پیدا ہوا۔ اور پھر انیس سو ستاسی میں یہی متوسط طبقہ سڑکوں پر آیا اور جمہوریت لے آیا۔ تائیوان میں عین اسی برس مارشل لا ختم ہوا اور وجہ بھی کم و بیش وہی تھی۔ سنگاپور، ملائشیا، چین، ترکیہ، ہر جگہ ترتیب یہی رہی۔ پہلے لوگ خوشحال ہوئے، پھر انہوں نے نظام درست کرایا۔

   کوئی کہے گا یہ تو آمریت کے حق میں دلیل ہو گئی۔ نہیں بھائی، بات یہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ نظام بدلنے والا ہاتھ بھی مضبوط ہونا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کے بعد کیا بچے گا؟

اب سوال یہ کہ عملی طور پر نوجوان کرے کیا؟ سب سے پہلے یہ دیکھے کہ دنیا میں کس چیز کی مانگ ہے؟ مصنوعی ذہانت آ چکی ہے اور وہ سب سے پہلے وہی کام کھا رہی ہے جو میز پر بیٹھ کر ہوتے ہیں۔ ابتدائی درجے کی کلرکی، سادہ ترجمہ، معمولی کوڈنگ، مواد کی چھانٹی۔

   اسی کے عشرے میں ہینز موراویک نامی سائنس دان نے ایک بات کہی تھی جسے آج موراویک کا تضاد کہا جاتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ مشین کے لیے شطرنج کھیلنا اور حساب لگانا آسان ہے، مگر سیڑھیاں چڑھنا، برتن اٹھانا، کسی بیمار بوڑھے کو بستر سے سنبھال کر اٹھانا مشکل ترین کام ہیں۔ چالیس سال بعد یہ بات لفظ بہ لفظ درست نکلی۔

  آج مغربی ماہرین بھی یہ مان رہے ہیں کہ جن کاموں میں ہاتھ، جسم اور انسانی موجودگی درکار ہے، وہ محفوظ ہیں۔ پلمبر، الیکٹریشن، ویلڈر، ائیرکنڈیشننگ اور ریفریجریشن کا ماہر، مشین آپریٹر، ٹیکنیشن وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ہاں والدین بچے کو زبردستی گریجوایشن کرا کے بےروزگار بنا دیتے ہیں۔ وہی بچہ اگر ٹیکنیکل تربیت لے لے تو خلیجی ممالک میں اس کی تنخواہ کئی ایم اے پاس نوجوانوں سے زیادہ ہوگی۔

 وہ میدان جہاں ہم نہیں دیکھ رہے

آج کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بوڑھی ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دو ہزار پچاس تک ساٹھ سال سے زائد عمر کے لوگ دو ارب سے تجاوز کر جائیں گے۔ جاپان میں اس وقت لگ بھگ تیس فیصد آبادی پینسٹھ سال سے اوپر ہے۔ اٹلی، جرمنی، جنوبی کوریا، سب اسی راستے پر ہیں۔ ڈیمنشیا(بھول جانے کے ذہنی مرض) کے شکار لوگ دنیا بھر میں ساڑھے پانچ کروڑ کے قریب ہیں اور تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ان بزرگوں کو سنبھالنے والے تربیت یافتہ لوگ مگر موجود نہیں۔

   دوسری طرف ہمیں دیکھیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ہے، کئی کروڑ۔ ایک طرف دنیا کے پاس بوڑھے ہیں اور دیکھ بھال کرنے والے نہیں، دوسری طرف ہمارے پاس نوجوان ہیں اور ان کے پاس کام نہیں۔ اتنا سیدھا حساب کتاب کہ حیرت ہوتی ہے، ہم نے اس پر کام کیوں نہیں کیا؟

     جاپان نے دو ہزار انیس میں ہنر مند کارکنوں کے لیے نیا ویزا کیٹیگری کھولی جس میں بزرگوں کی نگہداشت شامل ہے اور اسی برس پاکستان کے ساتھ اس ضمن میں یادداشت پر دستخط بھی ہوئے۔ جرمنی نے ہنر مند تارکین وطن کے لیے قانون میں نرمی کی۔ فلپائن نے اس موقعہ کو بہت پہلے بھانپ لیا، تین عشرے قبل ، فلپائنی نرسیں اور نگہداشت کا سٹاف دنیا بھر میں پہنچ چکا ہے۔ اس کی ترسیلات زر ہمارے لگ بھگ ہیں، حالانکہ اس کی آبادی ہم سے آدھی ہے۔ بھارت کی ریاست کیرالہ نے تو نرسنگ کو باقاعدہ برآمدی صنعت بنا رکھا ہے۔

   ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ لاکھوں تربیت یافتہ نگہداشت کار تیار کریں۔۔ بنیادی نرسنگ، فزیو تھراپی، ڈیمنشیا اور الزائمر کے مریضوں کو سنبھالنے کی خاص مہارت، بزرگوں کی نفسیات، انہیں ذہنی طور پر پرسکون رکھنے کا طریقہ، ہنگامی طبی امداد۔ ساتھ ہی کچھ نہ کچھ ان کی زبانیں سکھائیں۔ جاپان میں نگہداشت کے ویزے کے لیے جاپانی زبان کا ابتدائی امتحان لازم ہے، جرمنی میں جرمن کا۔ ہمارے نوجوان کو چند سو الفاظ اور روزمرہ کے جملے سکھا دیے جائیں تو دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہ کام سرکاری اور نجی، دونوں سطحوں پر ہو سکتا ہے اور اتنا مہنگا بھی نہیں۔

   ایک اور بات۔ ہمارے ہاں مرد نرس کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ خلیج اور یورپ میں بزرگ مردوں کو سنبھالنے کے لیے سب سے زیادہ مانگ مرد نگہداشت کاروں ہی کی ہے اور معاوضہ بھی بہت اچھا ہے۔ عزت اور بےعزتی کے ہمارے پیمانے ہمیں کتنا مہنگا پڑ رہے ہیں، اس کا اندازہ ہی نہیں۔

تو کیا سب کو باہر بھیج دیں؟

 جب بھی اس طرح کی تجاویز دی جائیں، مشورہ دیں تو یہ فوری جوابی اعتراض آتا ہے کہ کیا سب کو باہر بھیج دیں؟ کہا جاتا ہے کہ یہ تو نوجوانوں کو ملک سے نکالنے کی بات ہے۔ عرض یہ ہے کہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب غیر ہنر مند مزدور جاتا ہے۔ ہنر مند جاتا ہے تو واپس آ کر تربیت دیتا ہے، سرمایہ لاتا ہے، ادارے بناتا ہے۔ کیرالہ کے کئی معیاری ہسپتال اسی سائیکل سے بنے اور اب وہ اپنے ملک میں سروس دے رہے ہیں۔

   دوسرا اعتراض یہ کہ سسٹم ٹھیک کیے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ چالیس برس سے ہم یہی کہہ رہے ہیں اور حاصل صفر ہے۔ سسٹم کوئی آسمان سے اترنے والی چیز نہیں، وہ خوشحال اور خود مختار لوگوں کے دباؤ سے بدلتا ہے۔

    میں سمجھتا ہوں ہمارا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، کہانی کا غلط ہونا ہے۔ ہم نے پوری قوم کو کچھوا بننا سکھایا اور پھر شکایت کرتے رہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔

   میری آنکھوں کے سامنے ایک منظر ہے۔ اوساکا کے کسی چھوٹے سے کمرے میں ایک پاکستانی لڑکا اٹھاسی سالہ بزرگ کو سہارا دے کر بٹھا رہا ہے، ٹوٹی پھوٹی جاپانی میں اس سے حال پوچھ رہا ہے، اور مہینے کے آخر میں سرگودھا ، بہاولپور یا صوابی، کراچی ،کوئٹہ وغیرہ میں اپنے گھر پیسے بھیج رہا ہے۔ وہ لڑکا ہر لحاظ سے ملک کے لئے کارآمد اور مفید ہے۔ اللہ کرے ایسے لاکھوں لڑکے ہمیں نصیب ہوں، آمین۔

   اور ہاں، جب یہ واپس آئیں گے تو شاید نظام بدلنے کی اصل طاقت بھی انہی کے پاس ہوگی کیونکہ تب ان کے ہاتھ میں دلیل کے ساتھ ہنر ہوگا اور جیب میں پیسہ بھی۔ ایسی تبدیلی پرامن، جمہوری اور سیاسی راستے سے آ سکتی ہے۔ ملکی نظام کو تلپٹ کیے بغیر، افراتفری پیدا کیے بغیر، اسے توڑنے کے بجائے اس کی تعمیر نو اور مضبوطی کے ذریعے۔

  مانیں یا نہ مانیں، دنیا کے ہر ترقی یافتہ، خوشحال ملک میں ایسا ہی ہوا ہے اور یہی اصل طریقہ ہے۔ باقی  کہانیاں ہیں بابا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملے میں 3 پاکستانی شہید ہوئے، دفتر خارجہ

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا ایرانی قیادت کے نام خصوصی پیغام، محسن نقوی نے پہنچا دیا

پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق

اسلام آباد پولیس نے 16 کروڑ سے زائد مالیت کی 50 مسروقہ گاڑیاں برآمد کرلیں

بیوی سے ادرک، لہسن کی بو آئے تو کون اسے دیکھے گا؟ شہود علوی کے بیان پر نئی بحث چھڑگئی

ویڈیو

اوورسیز کشمیری نظام سے مایوس نہیں، حکومت میں کوئی کردار دیا گیا تو ڈیلیور کرکے دکھاؤں گا، احسان دانش

سندھ مدرسۃ الاسلام: تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی فکری تربیت میں اہم کردار

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ وسیع تر علاقائی اتحاد میں بدل سکتا ہے، ایمبیسیڈر اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے