پاکستان کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں چین کو کی جانے والی برآمدات مالی سال 2025-26 میں 24 فیصد بڑھ کر تقریباً 255 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات نے نئے ریکارڈ قائم کر دیے، اس کامیابی کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟
صنعتی ذرائع کے مطابق چین میں پاکستانی مچھلی، کیکڑے، جھینگے اور دیگر سمندری مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان کے لیے اس شعبے میں مزید توسیع کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی سی جے سی سی آئی) نے سمندری خوراک کی برآمدات بڑھانے کے لیے جدید پروسیسنگ، کولڈ چین انفراسٹرکچر، معیار کی نگرانی اور عالمی سرٹیفکیشن کے نظام میں مزید سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔
چیمبر کے صدر نذیر حسین نے کہا کہ پاکستان کے پاس ویلیو ایڈڈ مصنوعات جن میں مڈ کیکڑے، جھینگے، لابسٹر اور تازہ و منجمد مچھلی شامل ہیں کی برآمدات بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق جدید سہولیات اور عالمی معیار پر عمل درآمد سے پاکستانی برآمد کنندگان چین میں طویل المدتی تجارتی روابط قائم کرسکتے ہیں۔
چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 24 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 235.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ حجم 188.95 ملین ڈالر تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق منجمد مچھلی کی برآمدات تقریباً 46 ملین ڈالر سے بڑھ کر 57 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں جبکہ تازہ اور ٹھنڈے کیکڑوں کی برآمدات 31.93 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
تازہ صنعتی اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں بھی برآمدات کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران چین کو مجموعی سمندری خوراک کی برآمدات تقریباً 255 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
مَڈ کیکڑے پاکستان کی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل
پاکستان کے لیے مَڈ کیکڑے ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرنے والی برآمدی مصنوعات بن کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان دنیا کے بڑے مڈ کیکڑا برآمد کنندگان میں شامل ہے اور پاکستانی حکام کے مطابق ملک نے چین کو 3 ہزار ٹن سے زائد زندہ مڈ کیکڑے برآمد کیے، جو اس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں تاریخی اضافہ، پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کا ہدف عبور
چین کی اہمیت پاکستان کی مجموعی سمندری خوراک کی برآمدات میں بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی مچھلی اور مچھلی سے تیار مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اس میں منجمد مچھلی کی برآمدات 105.09 ملین ڈالر، منجمد اسکویڈ اور کٹل فش 103.71 ملین ڈالر، فش میل 83.12 ملین ڈالر، جھینگے 62.14 ملین ڈالر اور کیکڑے 36.89 ملین ڈالر رہے۔
پاکستانی سمندری مصنوعات کے بڑے خریداروں میں چین کے علاوہ تھائی لینڈ، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، جاپان، ویتنام، سعودی عرب، جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور امریکا شامل ہیں۔
برآمدات کا شعبہ 500 ملین ڈالر کا ہدف عبور کرگیا
568 ملین ڈالر کی برآمدات اس شعبے کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہیں کیونکہ پاکستان کا سمندری خوراک کا شعبہ کئی برسوں سے 500 ملین ڈالر کے سالانہ برآمدی ہدف تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے 216,350 ٹن مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات برآمد کیں جن سے 465 ملین ڈالر آمدنی حاصل ہوئی۔ یہ حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ تھا۔
مالی سال 2023-24 میں برآمدی مالیت 410 ملین ڈالر تھی جو اگلے سال بڑھ کر 465 ملین ڈالر ہوگئی جبکہ برآمدی حجم بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
ایک اور اہم پیشرفت اگست 2025 میں ہوئی جب امریکا نے پاکستان سے سمندری خوراک کی برآمدات جاری رکھنے کی اجازت مزید چار سال کے لیے برقرار رکھی۔
امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے پاکستان کی فشریز کو میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت معیار کے مطابق قرار دیا، جس سے امریکی مارکیٹ تک پاکستان کی طویل المدتی رسائی مضبوط ہوئی۔
بلیو اکانومی کے لیے اہم شعبہ
پاکستان کا فشریز شعبہ ساحلی معیشت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے بڑی پیداواری اور لینڈنگ سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو روسی مارکیٹ تک رسائی، سی فوڈ ایکسپورٹ میں بڑی پیش رفت
حالیہ برسوں میں پاکستان نے روایتی مچھلی کی برآمدات کے ساتھ ساتھ کیکڑے، جھینگے، اسکویڈ، کٹل فش، آکٹوپس، فش میل اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر بھی توجہ بڑھائی ہے۔
چین اس تنوع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سال 2025 کے پہلے 9 ماہ میں چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 153 ملین ڈالر سے تجاوز کرگئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 121.93 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔
پاکستانی مصنوعات میں منجمد مچھلی، تازہ اور ٹھنڈے کیکڑے اور منجمد کٹل فش نمایاں رہیں۔ اس دوران چین کو پاکستانی منجمد سارڈین کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
برآمدات میں اضافے کو بہتر کولڈ چین نظام اور چینی کسٹمز کی سہولت کاری سے بھی مدد ملی۔ چینی ہوائی اڈوں پر آئس پیک شدہ سمندری خوراک کے لیے تیز رفتار کلیئرنس نظام کے باعث مصنوعات تقریباً 48 گھنٹوں میں صارفین تک پہنچنے لگی ہیں۔
تاہم صنعت کو اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مالی سال 2025 میں صنعت کے نمائندوں کے مطابق کئی پروسیسنگ پلانٹس خام مال کی کمی کے باعث اپنی مجموعی صلاحیت کے صرف 20 سے 25 فیصد تک کام کر رہے تھے۔
پاکستان اب آبی زراعت، جھینگا فارمنگ، بہتر فریزنگ ٹیکنالوجی اور سمندری وسائل کے تحفظ کے ذریعے پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پی سی جے سی سی آئی کے نائب صدر عامر علی نے کہا کہ بہتر سپلائی چین، عالمی معیار کے فوڈ سیفٹی اصولوں پر عمل اور جدید پروسیسنگ سہولیات پاکستان کو چینی مارکیٹ میں مزید مضبوط مقام دلا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی سی فوڈ برآمدات کو امریکی مارکیٹ میں 4 سال کی توسیع مل گئی
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ حالیہ برآمدی کامیابیوں کو مستقل ترقی میں تبدیل کیا جائے جس کے لیے سمندری وسائل کا تحفظ، آبی زراعت کا فروغ، جدید پروسیسنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں اضافہ ضروری ہوگا۔














