پاکستان کی بلیو اکانومی (سمندری معیشت) میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ملک کی سمندری خوراک یا سی فوڈ کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری، پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور فشر فوک برادری نے اس کامیابی کو ملکی معیشت اور ساحلی علاقوں کے لیے ایک انقلابی موڑ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں تاریخی اضافہ، پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کا ہدف عبور
برآمدات کے اہم خدوخال اور بڑی عالمی منڈیاں
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کے مطابق حالیہ اقتصادی اصلاحات اور سخت کوالٹی کنٹرول کی بدولت پاکستان کی مچھلی کی برآمدات نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
اگر سب سے اہم برآمدی مصنوعات کی بات کی جائے تو ’فروزن فش‘ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری مصنوعات کے طور پر سامنے آئی۔
علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش مختلف چیلنجز کے باوجود پاکستان نے دنیا کی 10 بڑی بین الاقوامی منڈیوں تک کامیابی سے رسائی حاصل کی، جن میں چین، جاپان، سعودی عرب اور امریکا سرفہرست ہیں۔
مزید برآں، پاکستان نے حال ہی میں روس کی مارکیٹ تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے، جو ملکی سمندری مصنوعات کی برآمدات کے فروغ اور نئی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا اہم مظہر ہے۔
کوالٹی کنٹرول کا کردار
میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ (ایم ایف ڈی) کی جانب سے عالمی معیار کو برقرار رکھنا اس تاریخی کامیابی کی بنیادی وجہ بنا۔ حکومت اب ویلیو ایڈیشن اور مزید نئی برآمدی منڈیوں پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔
’کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نئے تجارتی راستے‘
پاکستان فشریز ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین مسلم محمدی نے اس کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری اور ڈی جی ایم ایف ڈی منصور حسن کی کاوشوں کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 16 پاکستانی کمپنیوں کو بین الاقوامی برآمدات کے لائسنس مل چکے ہیں، اور مزید کمپنیاں بھی جلد رجسٹرڈ ہونے جا رہی ہیں۔ اس سے پاکستان کے لیے بلیو اکانومی کا ایک مستقل راستہ کھل گیا ہے کیونکہ دنیا بھر میں پاکستانی مچھلی کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی شپمنٹس اب روس تک کامیابی سے جا چکی ہیں، جس کے بعد اب رشین فیڈریشن کی سابق ریاستوں جیسے قازقستان اور تاجکستان تک بھی پاکستانی سمندری خوراک کی رسائی کی راہیں ہموار ہیں۔
مقامی ماہی گیروں اور ساحلی معیشت پر اثرات
دوسری جانب فشر فوک کے ترجمان کمال شاہ نے اس ترقی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلیو اکانومی میں بہتری کا فائدہ صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے اثرات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔
متوقع معاشی اور سماجی فوائد
کمال شاہ کے مطابق ماہی گیری کی صنعت جو پہلے زوال پذیر نظر آ رہی تھی، اسے اب ایک مضبوط سہارا ملا ہے۔ برآمدات میں اس ریکارڈ اضافے سے ساحلی علاقوں بالخصوص کراچی اور گوادر میں ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی
میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بین الاقوامی معیارات کی سختی سے نگرانی مقامی انڈسٹری اور پروسیسنگ یونٹس کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کرےگی، جس سے مقامی ماہی گیروں کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو روسی مارکیٹ تک رسائی، سی فوڈ ایکسپورٹ میں بڑی پیش رفت
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار نے اس تاریخی کامیابی پر مچھلی کی صنعت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز، ماہی گیروں اور برآمد کنندگان کو مبارکباد پیش کی ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرتی رہے گی۔












