انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان جو روٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف آئندہ ہوم ٹیسٹ سیریز کے دوران کھلاڑیوں پر رات کے وقت باہر جانے کی کوئی پابندی یا کرفیو نافذ نہیں ہوگا کیونکہ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں کو ذمہ دار بالغ افراد سمجھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیم کرفیو توڑنے کا اعتراف: نائٹ کلب واقعے پر انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کی معذرت
انگلینڈ کے آل ٹائم ٹیسٹ رنز بنانے والے بیٹر جو روٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران انگلینڈ ٹیم کے ڈریسنگ روم کلچر اور کھلاڑیوں کے رویے پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
35 سالہ جو روٹ نے سابق کپتان بین اسٹوکس کی جانب سے جون میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ قیادت سنبھالی ہے۔ بین اسٹوکس کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران لندن میں رات گئے باہر جانے اور ٹیم کرفیو کی خلاف ورزی پر ایک ٹیسٹ میچ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ فاسٹ بولر گس اٹکنسن بھی اسی معاملے میں کارروائی کی زد میں آئے تھے۔
سابق ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم بھی انگلینڈ کی نیوزی لینڈ کے خلاف 2-1 سے سیریز شکست کے بعد اپنے عہدے سے الگ ہوگئے، جس کے بعد ان کی جگہ سابق انگلش کرکٹر اسٹیفن فلیمنگ نے سنبھال لی۔
مزید پڑھیے: بین اسٹوکس کی ٹیسٹ کپتانی خطرے میں، نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات شروع
جو روٹ نے اسکائی اسپورٹس کرکٹ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، کوئی کرفیو نہیں ہوگا۔ میرے خیال میں اس معاملے کو اتنا بڑا بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں سے میدان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے تو انہیں میدان سے باہر بھی اچھے فیصلے کرنے کے لیے بالغ افراد کی طرح اعتماد دیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مردوں کی کرکٹ میں نیا باب، سارہ ٹیلر انگلینڈ ٹیسٹ ٹیم کی کوچ بن گئیں
جو روٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایسی چیز ہے جسے ہمیں بحیثیت ٹیم درست طریقے سے سنبھالنا ہوگا اور اسٹیفن فلیمنگ کے ساتھ مل کر خود اپنی نگرانی بھی کرنی ہوگی۔
انگلینڈ ٹیم کے کلچر پر سوالات کیوں اٹھے؟
انگلینڈ ٹیم کے رویے اور نظم و ضبط پر گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز میں 4-1 کی شکست کے بعد مزید بحث شروع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ میں ہیری بروک اور ایک نائٹ کلب کے سیکیورٹی گارڈ کے درمیان ہونے والا تنازع بھی خبروں میں آیا تھا۔
ان واقعات کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے جنوری میں کہا تھا کہ کھلاڑیوں کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے جن میں رات 12 بجے کا کرفیو بھی شامل ہوگا۔
تاہم اب نئے کپتان جو روٹ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ایسا کوئی کرفیو نافذ نہیں کیا جائے گا اور کھلاڑیوں سے ذمہ دارانہ رویے کی توقع رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاک انگلینڈ ٹیسٹ سیریز: شعیب اختر کی قومی کرکٹ ٹیم کو وارننگ
انگلینڈ اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی درجہ بندی میں 7ویں نمبر پر ہے جبکہ جو روٹ اور اسٹیفن فلیمنگ کی نئی ذمہ داریوں کا آغاز پاکستان کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز سے ہوگا جس کا آغاز 19 اگست سے ہوگا۔














