بوگوٹا: کولمبیا میں رواں ہفتے آنے والے شدید زلزلے میں کم از کم 250 افراد ہلاک ہونے کے بعد ماہرین نے جائزہ لیا ہے کہ بعض زلزلے معمولی نوعیت کے جھٹکوں کے مقابلے میں اتنی زیادہ تباہی کیوں مچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی حملے کے خدشے پر تائیوان کی بڑی جنگی مشق، ناکہ بندی، زلزلے اور حملے کا فرضی منظرنامہ
کولمبیا اور وینزویلا کئی متحرک زمینی پلیٹوں کی حدود پر واقع ہیں۔ یہ پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں اور ان کے درمیان رگڑ کے باعث زیرِ زمین توانائی جمع ہوتی ہے، جو اچانک خارج ہونے پر زلزلے کا سبب بنتی ہے۔
زمین کی پلیٹوں کی حرکت
کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کے ماہر ارضیات جرمن پریتو کے مطابق کولمبیا میں آنے والے زلزلے میں نازکا پلیٹ جنوبی امریکی پلیٹ کے نیچے سرک رہی تھی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو کولمبیا میں آنے والے زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز 100 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

اس کے مقابلے میں وینزویلا میں جون کے آخر میں آنے والے زلزلوں کی شدت 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم ان کی گہرائی 20 کلومیٹر سے بھی کم تھی۔
ماہرین کے مطابق کولمبیا کے زلزلے کا مرکز زیادہ گہرائی میں ہونے کے باعث جھٹکے پاناما تک محسوس کیے گئے، تاہم توانائی کو زیرِ زمین پھیلنے کے لیے زیادہ جگہ ملنے سے تباہی کی شدت کم رہی۔
شدت اور زمینی حرکت
زلزلے کی شدت ناپنے کا پیمانہ لوگارتھمک ہوتا ہے، جس میں ہر ایک درجے کے اضافے کے ساتھ طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ شدت 7 کا زلزلہ شدت 6 کے زلزلے سے 30 گنا سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زلزلے کے دوران زمین کی حرکت کی نوعیت بھی تباہی کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کولمبیا اور وینزویلا میں آنے والے زلزلے افقی زمینی حرکت کے باعث پیدا ہوئے، جس سے عمارتوں کو شدید جھٹکے لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں تباہ کن زلزلے: ہلاکتیں 1700 سے تجاوز کرگئیں، 68 ہزار افراد لاپتا
زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پہلے جھٹکے سے متاثرہ عمارتوں میں واپس جاتے ہیں۔ کولمبیا میں منگل کی سہ پہر تک 100 سے زیادہ آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جاچکے تھے۔
کمزور عمارتیں اور زمین کی نوعیت
زلزلوں سے ہونے والی ہلاکتوں میں عمارتوں کا معیار بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جاپان اور چلی جیسے زلزلہ خیز ممالک میں ایسی عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے سخت قواعد موجود ہیں جو شدید جھٹکوں کو برداشت کرسکیں۔

اس کے برعکس گنجان آبادی والے علاقوں میں غیر معیاری تعمیرات اور انجینئرنگ کے اصولوں پر عمل نہ ہونا زلزلے کو بڑے انسانی المیے میں تبدیل کرسکتا ہے۔
کولمبیا نے زلزلہ مزاحمت رکھنے والی تعمیرات کے لیے 1970 کی دہائی میں اقدامات شروع کیے اور پوپایان میں تباہ کن زلزلے کے بعد 1984 میں پہلا تعمیراتی ضابطہ نافذ کیا۔ موجودہ ضابطہ 2010 میں نافذ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق عمارت کا محل وقوع، تعمیراتی مواد اور تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد زلزلوں سے محفوظ شہروں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
نرم زمین بھی تباہی بڑھا سکتی ہے
ماہرین کے مطابق زمین کی ساخت بھی زلزلے کے اثرات کو بڑھا سکتی ہے۔ میکسیکو سٹی خشک جھیل کی تہہ پر آباد ہے، جس کے باعث دور دراز کے زلزلوں کے جھٹکے بھی وہاں زیادہ شدت سے محسوس ہوسکتے ہیں۔
وینزویلا کا ساحلی علاقہ لا گوئیرا نرم اور ڈھیلی زمین پر واقع ہے، جس کے باعث جون میں آنے والے زلزلوں کے دوران یہ علاقہ شدید متاثر ہوا۔ کولمبیا کی مغربی وادیوں میں بھی رواں ہفتے زلزلے کے اثرات زیادہ نمایاں رہے۔
بہتر تیاری سے نقصانات کم کیے جاسکتے ہیں
ماہرین کے مطابق زلزلوں کی درست پیش گوئی یا انہیں روکنا ممکن نہیں، تاہم بہتر منصوبہ بندی، مضبوط تعمیرات اور مؤثر ہنگامی نظام کے ذریعے جانی و مالی نقصان کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین زلزلہ پیما مراکز کا مضبوط نیٹ ورک قائم کرنے اور مختلف ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ بڑھانے پر بھی زور دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں زلزلوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ انتہائی اہم ہے کیونکہ زیادہ تر بڑے زلزلے زمینی پلیٹوں کی ان حدود پر آتے ہیں جو اکثر ممالک اور براعظموں کی سرحدوں کے قریب واقع ہوتی ہیں۔














