تائیوان نے چین کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر وسیع پیمانے پر ہنگامی اور دفاعی مشقیں کی ہیں، جن میں چینی ناکہ بندی، شدید زلزلہ، تخریب کاری، سائبر حملوں، عوامی بے چینی اور مکمل فوجی یلغار جیسے فرضی حالات کا جائزہ لیا گیا۔ ان مشقوں کا مقصد جنگ یا بڑے بحران کی صورت میں سرکاری اداروں اور شہری نظام کی تیاری کو جانچنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سمندری خود مختاری کا تنازع، تائیوان کی جانب سے چینی بحری بیڑے کی پیشقدمی روکنے کے لیے جنگی جہاز روانہ
رائٹرز کے مطابق وسطی تائیوان کے ضلع نانتو میں ہونے والی ان دو روزہ مشقوں میں 370 سے زائد سرکاری، فوجی اور مقامی حکام نے حصہ لیا۔ صدر لائی چنگ تے کی ہدایت پر منعقد ہونے والی مشقوں میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ اگر چین تائیوان کا بحری محاصرہ کرے، زلزلے سے پیدا ہونے والی افراتفری سے فائدہ اٹھائے، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچائے، بینکوں پر دباؤ بڑھے اور معلوماتی جنگ شروع ہو جائے تو ریاستی ادارے کس طرح صورتحال پر قابو پائیں گے۔

مشقوں میں چینی ڈرون حملے، بجلی گھروں کے تحفظ، خوراک کی تقسیم، زخمیوں کی منتقلی، ہسپتالوں کی زیر زمین منتقلی اور سرکاری کمپیوٹر نیٹ ورکس پر سائبر حملوں جیسے حالات بھی شامل کیے گئے۔ حکام نے امریکی فوج کے تیار کردہ جدید نقشہ جاتی نظام اور مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے امدادی کارروائیوں اور وسائل کی نگرانی کی۔
تائیوان کی قومی سلامتی کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مشقوں سے واضح پیغام دینا مقصود ہے کہ تائیوانی معاشرہ کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے چین کو فوجی کارروائی سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے گا۔

ادھر مشقوں کے اختتام پر تائیوان نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایک مرتبہ پھر جزیرے کے گرد جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کے ساتھ مشترکہ جنگی گشت کیا، جبکہ بیجنگ نے صدر لائی چنگ تے پر آبنائے تائیوان میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا۔ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں ان مشقوں کو پہلے سے زیادہ حقیقت کے قریب بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر ردعمل دیا جا سکے۔













