امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترکیہ سے امریکا واپسی کے سفر کے دوران ایک غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن سامنے آیا، جس کی مکمل حقیقت تقریباً ایک ماہ بعد معلوم ہوئی۔ ٹرمپ صحافیوں کے ساتھ ملڈن ہال جانے والے صدارتی طیارے میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ ایران سے لاحق سیکیورٹی خطرے کے باعث انہیں ایک مختلف سرکاری طیارے کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق جولائی میں انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے صدارتی طیارے پر براہِ راست امریکا واپس نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارہ برطانیہ کے ملڈن ہال ایئربیس بھیجا جائے گا تاکہ وہاں موجود امریکی فوجی اسے دیکھ سکیں، جبکہ وہ ایک پرانے ایئر فورس ون کے ذریعے ملڈن ہال جائیں گے۔
'If I go, you go, right?': Traveling on the presidential plane – without Trump https://t.co/lIX7J6Enz1 https://t.co/lIX7J6Enz1
— Reuters (@Reuters) August 12, 2026
صدر کے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے لیے یہ تبدیلی ابتدا ہی سے باعثِ حیرت تھی۔ ٹرمپ نے اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے انہیں قتل کرنے کی مبینہ کوششوں کا بار بار ذکر بھی کیا تھا، جس کے باعث صحافیوں میں یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی کہ شاید صدر کو کسی حقیقی سیکیورٹی خطرے کا سامنا ہے۔
انقرہ سے ملڈن ہال جانے والی پرواز میں وائٹ ہاؤس کے عملے نے صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ یہ سیکرٹ سروس کی درخواست ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اقدام بھی خفیہ آپریشن کا حصہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی قاتلانہ دھمکی کے باعث ترکیہ میں خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنا پڑا، ڈونلڈ ٹرمپ
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کو کیٹرنگ کے ایک ٹرک کے ذریعے طیارے سے نکالا گیا اور ایک دوسرے سرکاری جیٹ میں منتقل کردیا گیا، جبکہ صحافیوں کو اس تبدیلی سے لاعلم رکھا گیا۔ برطانیہ پہنچنے کے بعد صحافیوں نے ٹرمپ کو طیارے کے ایک حصے سے باہر آتے دیکھا اور پھر وائٹ ہاؤس کے عملے کی ہدایت پر ان کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے قطر کے فراہم کردہ نئے ایئر فورس ون تک پہنچے۔
اس وقت ٹرمپ نے طیارے کی تبدیلی میں سیکیورٹی خدشات کے کردار سے انکار کیا، تاہم کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی وجہ پوچھے جانے پر ایران سے لاحق مسلسل خطرات کا اعتراف کیا۔
‘If I go, you go, right?': Traveling on the presidential plane – without Trump
Read more:https://t.co/SDOtvKAITj
— GMA News (@gmanews) August 12, 2026
ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا ’اگر میں جاتا ہوں تو آپ بھی جاتے ہیں، ٹھیک ہے؟ شاید کسی دن آپ پیشہ بدلنا چاہیں‘۔
تقریباً ایک ماہ بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ صدر صحافیوں کے ساتھ ملڈن ہال جانے والے طیارے میں تھے ہی نہیں اور ان کی محفوظ منتقلی کے لیے ایک تیسرا طیارہ استعمال کیا گیا تھا۔ واقعے نے امریکی صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے اختیار کیے گئے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کو نمایاں کردیا۔














