برقی گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا نے شمسی توانائی کے شعبے میں ایک بڑے منصوبے کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے ٹیکساس میں 10.1 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک وسیع سولر فیکٹری قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس سے کمپنی کے شمسی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا کا نیا عالمی ریکارڈ،10 ملین الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی پہلی کمپنی بن گئی
ٹیکساس حکومت کو جمع کرائی گئی ٹیکس مراعات سے متعلق دستاویز کے مطابق ’پروجیکٹ کرسٹل سن‘ نامی یہ منصوبہ فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں قائم کیا جائے گا جو ہیوسٹن کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ فیکٹری کی تجارتی پیداوار شروع ہونے کا ہدف 2029 کی پہلی سہ ماہی مقرر کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق مجوزہ فیکٹری میں 9,700 سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔ اگرچہ فائلنگ میں فیکٹری کی سالانہ پیداواری صلاحیت گیگا واٹ میں واضح نہیں کی گئی تاہم اس میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کے جنوری میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر دیے گئے بیان کا حوالہ موجود ہے۔
مسک نے اس موقعے پر کہا تھا کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس امریکا میں الگ الگ منصوبوں کے ذریعے سالانہ 100 گیگا واٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتے ہیں جس کے لیے تقریباً 3 سال درکار ہوں گے۔
شمسی توانائی کی صنعت سے متعلق امریکی ادارے سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے مطابق اگست میں امریکا میں سولر ماڈیولز کی فعال پیداواری صلاحیت 74.1 گیگا واٹ تک پہنچ چکی تھی۔ یہ صلاحیت 2026 میں متوقع ملکی طلب کے تقریباً 170 فیصد کے برابر ہے۔
مزید پڑھیے: ٹیسلا کے ایف ایس ڈی سسٹم کے ذریعے 32 ہزار انسانی جانیں بچانے کے دعوے پر ماہرین کو شدید اعتراض
ایسے میں مسک کی جانب سے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے لیے مجموعی طور پر 100 گیگا واٹ سالانہ کا ہدف مقرر کرنا امریکی سولر صنعت کی موجودہ مجموعی سالانہ پیداوار کے مقابلے میں بھی ایک نمایاں اضافہ ہوگا۔
صرف سولر پینلز کی اسمبلی نہیں
ٹیکساس حکومت کو جمع کرائی گئی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیسلا فیکٹری میں صرف تیار سولر پینلز کی اسمبلی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ فوٹو وولٹک سولر سیلز اور مکمل سولر ماڈیولز دونوں تیار کیے جائیں گے۔
منصوبے میں ایسے آلات بھی شامل ہیں جو سولر مصنوعات کی سپلائی چین کے ابتدائی مراحل میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیسلا اپنی موجودہ حکمت عملی کے مقابلے میں زیادہ عمودی طور پر مربوط پیداواری نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں مصنوعات کی تیاری کے زیادہ مراحل ایک ہی صنعتی نظام کا حصہ ہوں گے۔
ٹیسلا کے ترجمان اور ’پروجیکٹ کرسٹل سن‘ سے متعلق دستاویز میں درج نمائندوں نے اس منصوبے کے بارے میں تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
شمسی توانائی پر دوبارہ توجہ کیوں؟
ایلون مسک کی جانب سے شمسی توانائی پر حالیہ توجہ صرف عام صارفین کے لیے توانائی فراہم کرنے تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ کمپنی اب شمسی توانائی کو ٹیسلا کے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے منصوبوں کے لیے بجلی فراہم کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
ٹیسلا نے جولائی میں جاری کیے گئے اپنی دوسری سہ ماہی کے شیئر ہولڈر پریزنٹیشن میں بھی بتایا تھا کہ شمسی توانائی اور سیمی کنڈکٹرز کی تیاری سے متعلق منصوبوں کے لیے جگہ کے انتخاب، تعمیرات اور آلات کی خریداری میں پیشرفت ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیسلا کا بیٹری پروڈکشن بڑھانے کا فیصلہ، 25 کروڑ ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان
نیا منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیسلا مستقبل میں شمسی توانائی کو اپنی گاڑیوں اور توانائی کے موجودہ کاروبار کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔













