شمالی کوریا نے مبینہ طور پر امریکا کی کمپنیوں میں ریموٹ ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے چوری شدہ شناختوں، جعلی پروفائلز اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز پر مشتمل ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تحقیقات میں پتا چلا کہ ان ملازمتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ شمالی کوریا واپس بھیجا جاتا ہے جس سے کیم جونگ اُن کی حکومت کو کروڑوں ڈالر حاصل ہونے کا خدشہ ہے۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ شمالی کوریا کے آئی ٹی کارکن امریکی شہریوں کی چوری شدہ شناخت استعمال کرکے مختلف کمپنیوں میں ملازمتوں کے لیے درخواستیں دیتے ہیں اور امیدواروں کی جانچ کے مراحل بھی انہی جعلی شناختوں کے ذریعے مکمل کرتے ہیں۔
یہ کارکن بعض اوقات ایک ہی شناخت کے تحت مختلف نوعیت کی ملازمتیں سنبھال لیتے ہیں جبکہ کچھ افراد بیک وقت متعدد ملازمتیں بھی کرتے ہیں۔
3 ماہ میں ایک ہزار سے زائد کمپنیوں میں درخواستیں
تحقیقات کے مطابق ایک شمالی کوریائی سیل نے صرف تین ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد کمپنیوں میں ملازمتوں کے لیے درخواستیں دیں۔
مصنوعی ذہانت نے اس پورے عمل کو مزید آسان بنا دیا۔ کارکنوں نے اے آئی ٹولز کی مدد سے اپنے جعلی امیدواروں کے لیے سی وی اور کور لیٹرز تیار کیے جبکہ اسکرین ریکارڈنگز میں انہیں ملازمت کے انٹرویوز کے دوران پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات کے لیے براہِ راست چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
مزید پڑھیے: شمالی کوریا اپنی بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرے گا، کم جونگ اُن کا اعلان
اس طریقہ کار کے ذریعے شمالی کوریا کے کارکن بظاہر عام امریکی امیدواروں کی طرح کمپنیوں کے بھرتی کے عمل میں شامل ہوتے رہے۔
لاکھوں ڈالر کی آمدنی
تحقیقات کے مطابق بعض شمالی کوریائی آئی ٹی کارکن سالانہ 3 لاکھ ڈالر تک کما رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی تحقیقات کے مطابق ان کارکنوں کی کمائی کا 90 فیصد تک حصہ شمالی کوریا واپس پہنچ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر اس خفیہ آئی ٹی ورک فورس سے شمالی کوریا کے لیے سالانہ آمدنی 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ بھی سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان
The North Korean Operatives Hiding Inside U.S. Companies. WSJ’s documentary follows a single cell of these operatives. Drawn from a trove of leaked data, our yearlong investigation offers a rare look at how North Korea’s undercover workers get hired. https://t.co/8kxivCKkZA
— Alex Nguyen (@AlexNguyen65) August 13, 2026
اس رقم کو شمالی کوریا کے حکومت کے لیے ایک اہم مالی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پیونگ یانگ کو اپنے دفاعی اور فوجی پروگراموں کے لیے عالمی پابندیوں کا سامنا ہے۔
چوری شدہ شناختوں سے امریکی کمپنیوں تک رسائی
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے آئی ٹی کارکن ملازمت حاصل کرنے کے لیے چوری شدہ امریکی شناختوں کے ساتھ ساتھ جعلی آن لائن پروفائلز بھی استعمال کرتے ہیں۔
بعض صورتوں میں یہ کارکن مختلف افراد کے نام پر الگ الگ ملازمتیں حاصل کرتے ہیں اور یوں ایک ہی شخص کئی مختلف ملازمین کے طور پر کمپنیوں میں کام کرتا رہتا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے لیک ہونے والے ڈیٹا، انٹرویوز اور پہلے منظرعام پر نہ آنے والی ویڈیوز کی مدد سے اس نیٹ ورک کے طریقہ کار کا سراغ لگایا جس سے یہ معلوم ہوا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ریموٹ ملازمتوں کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا نظام کس قدر منظم انداز میں چلایا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے دوران رقم کی منتقلی کے راستوں کو شمالی کوریائی آئی ٹی کارکنوں اور سائبر جرائم پیشہ افراد کے ایک نیٹ ورک تک بھی ٹریس کیا گیا۔
امریکی حکام نے بعد ازاں اس نیٹ ورک سے منسلک ایک کمپنی پر پابندیاں عائد کیں جس کا تعلق پیونگ یانگ کے دفاعی پروگرام کی معاونت سے جوڑا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایٹمی طاقت بڑھانے کا اعلان کر دیا
یوں مصنوعی ذہانت نے جہاں دنیا بھر میں بھرتی اور ریموٹ کام کے عمل کو آسان بنایا ہے وہیں اس معاملے نے یہ خدشہ بھی نمایاں کیا ہے کہ جدید اے آئی ٹولز کو جعلی شناخت، فراڈ اور ریاستی سطح پر مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔













