ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اسلام آباد میں غیر ملکی شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: دریائے سواں میں گرنے والی خاتون ٹک ٹاکر کی موت کا معمہ حل ہوگیا
گرفتار کیے گئے غیر ملکی شہریوں میں چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے باشندے شامل ہیں جن پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں، آن لائن فراڈ، غیر اخلاقی مواد اور غیر قانونی کال سینٹرز چلانے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 200 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ایک عمارت سے گرفتار کیا گیا جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹرز قائم کیے گئے تھے۔ گرفتار افراد میں بڑی تعداد چینی شہریوں کی ہے جبکہ ایف آئی اے کے مقدمے میں 258 غیر ملکی شہریوں کو ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں نامزد کیا گیا ہے۔
غیر ملکی کہاں سے گرفتار ہوئے؟
ایف آئی اے کے مقدمے کے مطابق ویتنام سے تعلق رکھنے والے متعدد شہری گلبرگ گرینز کے اسپارکو پلازہ میں موجود تھے جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں۔ کارروائی کے دوران غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے کر ان کے سفری اور ویزا ریکارڈ کی جانچ کی گئی۔
مزید پڑھیے: ’گھر اور گاڑی دو، پھر ملوں گی‘، سابق ایم پی اے میاں نوید اور ٹک ٹاکر سنبل ملک کی مبینہ آڈیو لیک
حکام کے مطابق گرفتار غیر ملکیوں کی شناخت اور پاکستان میں داخلے سے متعلق معلومات انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) کے ذریعے چیک کی گئیں۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا کہ متعدد غیر ملکی شہری وزٹ، ٹورسٹ اور بزنس ویزوں پر پاکستان آئے تھے تاہم ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ویزوں کی شرائط کے برعکس پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں۔
غیر قانونی کال سینٹرز تک کیسے پہنچا گیا؟
ذرائع کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز کا سراغ ایک شراب برآمدگی کے مقدمے کی تفتیش کے دوران ملا۔ تفتیش آگے بڑھی تو حکام کو اسلام آباد کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں موجود غیر ملکی شہریوں اور مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔
اس معلومات کی بنیاد پر ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے نے مشترکہ کارروائی کی اور عمارت میں موجود غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران یہ مؤقف سامنے آیا کہ گرفتار افراد پاکستان میں قانونی کاروباری اجازت کے بغیر کال سینٹرز چلا رہے تھے۔
258 غیر ملکی ایف آئی اے کے مقدمے میں نامزد
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی جانب سے درج مقدمے میں 258 غیر ملکی شہریوں کو ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے مطابق گرفتار غیر ملکی شہریوں کا تعلق چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد وزٹ، ٹورسٹ یا بزنس ویزوں پر پاکستان آئے تھے مگر مبینہ طور پر ویزا شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے۔
این سی سی آئی اے کے مقدمے میں 114 ملزمان
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے بھی گرفتار غیر ملکی شہریوں کے خلاف الگ مقدمہ درج کیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق 114 ملزمان کو آن لائن فراڈ، غیر اخلاقی مواد اور دیگر سنگین نوعیت کی سائبر دفعات کے تحت مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
یوں ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے دونوں مقدمات میں مجموعی طور پر 372 غیر ملکی ملزمان نامزد ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں کارروائی کے دوران تقریباً 400 غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری کی بات سامنے آئی تھی تاہم عدالت میں پیش کیے گئے مقدمات کے مطابق دونوں اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر 372 ملزمان نامزد کیے گئے ہیں۔
سیکڑوں ملزمان کے باعث این سی سی آئی اے کو مشکلات
اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی ملزمان کی گرفتاری کے بعد این سی سی آئی اے کو انہیں رکھنے کے حوالے سے بھی انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق ادارے کے پاس ایک ہی وقت میں اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کو رکھنے کے لیے نہ مناسب جگہ موجود تھی اور نہ ہی مطلوبہ عملہ۔
صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا جس کے بعد نجی عمارت کو سب جیل قرار دینے کے لیے انتظامی اقدامات کیے گئے تاکہ گرفتار غیر ملکی شہریوں کو عدالت کے احکامات کے مطابق رکھا جاسکے۔
عدالت میں 372 ملزمان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کی جانب سے مجموعی طور پر 372 غیر ملکی ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نصیر الدین نے دونوں مقدمات کے ملزمان کو سننے کے بعد تمام غیر ملکی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ملزمان کو دوبارہ 26 اگست 2026 کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
گرفتاریوں کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
ایف آئی اے کی کارروائی میں بنیادی طور پر غیر ملکی شہریوں کی جانب سے پاکستان میں قیام اور سرگرمیوں کے لیے حاصل کیے گئے ویزوں کی شرائط کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق جو افراد وزٹ، ٹورسٹ یا بزنس ویزے پر پاکستان آئے تھے ان میں سے بعض مبینہ طور پر ایسی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے جن کی انہیں اجازت حاصل نہیں تھی۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے کی کارروائی کا محور مبینہ سائبر جرائم اور غیر قانونی کال سینٹرز ہیں جن میں آن لائن فراڈ اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔
تحقیقات کا دائرہ مزید بڑھنے کا امکان
اسلام آباد میں غیر ملکی شہریوں کے خلاف اس بڑے کریک ڈاؤن نے ویزا قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں اور مبینہ سائبر جرائم کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ گرفتار غیر ملکی پاکستان میں کس حیثیت سے سرگرم تھے انہیں کاروباری یا کال سینٹر سرگرمیوں کی اجازت حاصل تھی یا نہیں اور مبینہ غیر قانونی نیٹ ورک کے پیچھے مزید کون سے افراد یا ادارے موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: قانون کی خلاف ورزی مہنگی پڑ گئی، معروف ٹک ٹاکر اختر لاوا کے خلاف مقدمہ درج
فی الحال عدالت نے تمام نامزد ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے جبکہ دونوں مقدمات میں مزید تفتیش جاری ہے۔26 اگست کو ہونے والی آئندہ عدالتی پیشی میں تحقیقات کی پیشرفت اور ملزمان کے خلاف شواہد سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔













