انگلینڈ میں ریکارڈ توڑ گرمی، طویل خشک سالی اور خشک نباتات کے باعث تیزی سے پھیلنے والی جنگلاتی اور گھاس کی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، متعدد علاقوں سے لوگوں کا انخلا کرایا گیا جبکہ کئی گھر جل کر تباہ ہوگئے۔
شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑکنے کے متعدد بڑے واقعات پیش آئے، جن سے ہنگامی خدمات پر شدید دباؤ پڑا۔ ایک مقامی گالف کورس کے قریب بھڑکنے والی شدید گھاس کی آگ تیزی سے پھیلتے ہوئے رہائشی علاقے تک پہنچ گئی۔
🔥 UK BLAZES: At least six homes caught on fire as first responders combat an extensive wildfire, as large plumes of smoke rise amid the fiery scene. pic.twitter.com/XNjt1wVuAB
— FOX Weather (@foxweather) August 14, 2026
ویسٹ مڈلینڈز کے چیف فائر آفیسر سائمن ٹوہِل نے اس واقعے کو فائر سروس کی تاریخ کے خطرناک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اور کم از کم 6 مکانات مکمل طور پر جل گئے۔
ویسٹ مڈلینڈز میں جنگلاتی آگ کے دوران امدادی کارکنوں نے 54 افراد کو طبی امداد فراہم کی، جن میں سے 19 کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ متاثرین میں 3 فائر فائٹرز اور ایک بچہ بھی شامل ہیں، جنہیں دھوئیں سے متاثر ہونے اور دیگر زخموں کے باعث اسپتال میں علاج کی ضرورت پڑی۔
اس سے قبل سفوک کے ڈن وچ ہیتھ میں بھی بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ نے علاقائی وسائل پر دباؤ بڑھا دیا تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم اینڈی برنہم نے ہنگامی کوبرا اجلاس طلب کرکے صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر اقدامات، متاثرہ مقامی انتظامیہ کو اضافی امداد کی فراہمی اور آگ سے بچاؤ کے لیے ممکنہ پابندیوں پر غور کیا۔ ان اقدامات میں ڈسپوزایبل باربی کیو پر پابندی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ مزید پھیل گئی، ساڑھے 3 لاکھ افراد متاثر
ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق ریکارڈ خشک ترین جولائی کے بعد اگست میں اب تک انگلینڈ میں طویل مدتی اوسط کے مقابلے میں صرف 6 فیصد بارش ہوئی ہے۔ انگلینڈ کا ایک بڑا حصہ شدید خشک سالی کی صورتحال سے دوچار ہے۔
حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے اور انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مزید آگ بھڑکنے کے واقعات سے بچا جا سکے۔ فائر فائٹرز نے کئی مقامات پر آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں پیش رفت کی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں۔













