احتساب سے بالاتر طالبان حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے: حسن خان سینیئر تجزیہ کار

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف صحافی اور تجزیہ کار حسن خان نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی وجہ سے افغان طالبان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ افغانستان میں بھی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر افغانستان کی تباہی کس لیے ہو رہی ہے۔

وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں حسن خان نے کہا کہ افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان بھی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال ٹی ٹی پی کو بھی سوچنے پر ضرور مجبور کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ  دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت مضبوط اور عوامی رائے طالبان کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کابل میں طالبان حکومت کی چھتری تلے افغانستان دہشتگردوں کا نیا گڑھ، اقوام متحدہ کی نئی تہلکہ خیز رپورٹ جاری

مسلح مزاحمتی تحریکیں جغرافیائی لحاظ سے پھیل رہی ہیں، جبکہ ہرات، فَرَح اور نمروز میں طالبان کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اگر یہ مزاحمت زور پکڑتی گئی تو طالبان حکومت مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

حسن خان نے کہا کہ تیسری طرف ایران کی صورتِ حال بھی افغانستان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ جس طرح ایران نے 20 لاکھ سے زیادہ افغانوں کو افغانستان واپس بھیجا اور چاہ بہار کی بندش سے افغانستان کی برآمدات کو دھچکا پہنچا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افغانستان نے پاکستان کے ساتھ اپنے حالات کشیدہ کر رکھے ہیں، یہ صورتِ حال مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

جبکہ بندر عباس افغانستان کے لیے بہت دور ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی سے کچھ نہ کچھ ناراضی ضرور ہے اور ایران کی صورتِ حال بھی افغانستان کو متاثر کر رہی ہے۔

طالبان حکومت احتساب سے بالاتر ہے

حسن خان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت احتساب سے بالاتر ہے۔ مثال کے طور پر اگر صحت کی سہولیات نہیں ہیں تو یہ قدرت کا کام قرار دیا جاتا ہے، جبکہ خواتین کی تعلیم اور ان کے کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ اسلامی شریعت کے مطابق درست ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ افغان کلچر کے مطابق پابندی عائد کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:طالبان حکومت کے پانچ سال، صحافت پر کریک ڈاؤن، سنسرشپ، خاموشی اور اطلاعات پر کنٹرول

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد افغانستان میں عام لوگوں کے حالاتِ زندگی کافی حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ پاکستان کو اگر وہ 800 ملین ڈالر کی برآمدات کر رہے تھے تو واہگہ کے راستے 300 ملین ڈالر کی برآمدات وہ بھارت کو بھی کر رہے تھے۔ دوسرا، وہ وسطی ایشیا کو جانے والی ٹرانزٹ ٹریڈ سے بھی پیسے کما رہے تھے۔

تجارت کی بندش سے پاکستان کو بھی نقصان پہنچا ہے، لیکن پاکستان کی معیشت چونکہ بڑی ہے، اس لیے پاکستان اسے برداشت کر سکتا ہے، افغانستان نہیں کر سکتا۔ لیکن افغان طالبان ناقابلِ احتساب ہیں، کیونکہ انہوں نے افغانستان کو فتح کیا ہے اور وہ لوگوں کی مشکلات کی بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے۔

کیا احتساب سے بالاتر افغان طالبان رجیم زیادہ دیر برقرار رہ سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں حسن خان نے کہا کہ خطے کے ممالک، پاکستان، ایران، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان، سب طالبان کے طرزِ حکومت کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری کو بھی اس بارے میں تحفظات ہیں۔

اندرونی طور پر افغان عوام بھی طالبان سے خوش نہیں ہیں اور پھر افغان طالبان رجیم کے خلاف جو مزاحمتی فرنٹس کھل گئے ہیں، وہ بھی ان کے لیے مشکلات کھڑی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے میں افغان طالبان یہ چاہ رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان چلی جائے اور یہی وجہ ہے کہ ٹی ٹی پی نے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ وہ خیبرپختونخوا یا بلوچستان میں اپنے لیے کوئی جگہ چاہتے ہیں۔

افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی تحریکیں کتنی مضبوط ہیں؟

اس سوال کے جواب میں حسن خان نے کہا کہ جولائی میں جو بڑا واقعہ ہوا، وہ یفتل ضلعے میں اس وقت پیش آیا جب قیوم ملنگ کی فورسز نے اس ضلعے پر کچھ وقت کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے اگلے دن جنرل یٰسین ضیاء کے افغان فریڈم فرنٹ نے زیبک ضلع میں طالبان رجیم کے خلاف کارروائیاں کیں اور گوریلا کارروائیوں کے بجائے آمنے سامنے لڑائی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ

انہوں نے کہا کہ زیبک ضلع ایسا ہے کہ یہ واخان کوریڈور کے بالکل دہانے پر واقع ہے اور اس پر قبضہ کر کے بدخشاں کو باقی افغانستان سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

نورستان میں بھی افغان فریڈم فرنٹ کارروائیاں کر رہی ہے۔ اب جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں کارروائیاں کی ہیں۔ اب یہ قندھار، ہلمند، اروزگان اور زابل میں پھیل رہا ہے۔

بغلان میں ایک اور فرنٹ نکل آیا ہے۔ بغلان سے آگے بلخ میں مسائل ہیں۔ سالنگ میں امراللہ صالح، پنج شیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، جبکہ نمروز، فَرَح اور ہرات میں گزشتہ تین، چار ماہ سے طالبان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ افغان طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کا دائرۂ کار بڑھتا جا رہا ہے۔

اس وقت یہ تحریکیں افغان طالبان کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا رہی ہیں، لیکن اگر یہ زور پکڑ گئیں تو طالبان مشکل میں آ سکتے ہیں۔

پاک فوج کی کارروائیوں نے دہشت گردوں کی صلاحیتوں کو کتنا کمزور کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں حسن خان نے کہا کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشنز کافی کامیاب جا رہے ہیں۔ آج سے 3 ہفتے قبل بنوں میں جو دہشت گرد حملہ کیا گیا تھا، اس کے جواب میں جو کارروائیاں کی گئیں، ان کے بعد سے اب تک دہشت گرد کوئی بڑی کارروائی نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ دہشتگرد جا کر غاروں میں چھپ گئے ہیں اور جس دن سیکیورٹی فورسز دفاعی اقدامات سے تھوڑی غافل ہوں گی، وہ حملہ کریں گے۔ یہی ان کا طریقۂ کار ہے، لیکن کسی زمین کے ٹکڑے پر ابھی تک وہ اپنا کنٹرول حاصل نہیں کر پائے۔

مزید پڑھیں:طالبان حکومت سے فرار ہونے والی افغان خواتین فٹبالرز کی بین الاقوامی میدانوں میں شاندار واپسی

خیبرپختونخوا کے 36 میں سے 5 یا 6 اضلاع میں ٹی ٹی پی کے لوگ کہیں کہیں نمودار ہوتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی بڑا گروہ کہیں پر بیٹھا ہو، جبکہ ریاست کی رِٹ پوری طرح قائم ہے اور صورتِ حال قابو میں ہے۔

خیبرپختونخوا پولیس کم وسائل کے باوجود اچھے نتائج دے رہی ہے

حسن خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس وسائل کی کمی کے باوجود بہت فعال اور متحرک ہے۔ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس کا انسدادِ دہشت گردی کا محکمہ سب سے زیادہ کمزور ہے۔

خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں 2026 تک پولیس کے پاس کوئی بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی۔ یہ واحد صوبہ ہے جہاں سرحدی علاقوں میں پولیس کے لیے کوئی کنکریٹ انفراسٹرکچر موجود نہیں، جو ہے وہ انگریزوں کے زمانے کا بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود پولیس بہت اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے اور اسے سکیورٹی فورسز کی حمایت بھی حاصل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں زیر تعمیر سرنگ میں پانی بھرنے اور ملبہ گرنے سے 7 مزدور ہلاک

مقبوضہ کشمیر: قابض بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا

مقبوضہ کشمیر: ادھم پور میں بھارت نواز ملیشیا کے رکن کی فائرنگ، ساتھی ہلاک، ایک زخمی

بیوروکریٹس ہی اصل اور مستقل حکمران، کسی حکومت نے ان کا احتساب نہیں کیا، وزیر دفاع خواجہ آصف

نادرا کا چِپ کے بغیر نیا شناختی کارڈ متعارف، کیا پرانے کارڈ ختم ہوجائیں گے؟

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی