اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ نے افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم گروہوں کو افغانستان میں آپریشنل آزادی، تربیتی ڈھانچے، جدید ہتھیار اور بیرونی جنگجوؤں تک رسائی حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج، القاعدہ، داعش خراسان اور سابق ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ موجودہ ’ترکستان اسلامک پارٹی‘ (ای ٹی آئی ایم یا ٹی آئی پی) سمیت مختلف دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں اپنی سرگرمیاں منظم کر رہی ہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ طالبان حکومت میں شامل ہیں، وزیرِ دفاع خواجہ آصف
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیا اور عالمی سلامتی کے لیے بھی مسلسل خطرہ بن رہی ہے۔
پاکستان کے خلاف دہشتگردی، فتنہ الخوارج کا نیٹ ورک متحرک
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پھیلنے والی دہشتگردی علاقائی کشیدگی میں اضافے کا ایک اہم سبب بنی ہوئی ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے ’فتنہ الخواج‘ کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کیے جانے کے باعث گروپ کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے مسلسل گنجائش مل رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج نے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا اور ‘آپریشن خیبر’ کے نام سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی اپیل بھی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 فروری کو باجوڑ میں ہونے والے حملے میں 11 سیکیورٹی جوان اور ایک بچہ شہید ہوا تھا، جبکہ حملے کے بعد 12 دہشتگرد مارے گئے۔ پاکستانی حکام نے اس حملے کو افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج نیٹ ورک سے جوڑا تھا۔
مزید پڑھیں:طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے فتنہ الخوارج کو جدید ہتھیار منتقل کیے ہیں، جبکہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے 5 سال بعد بھی بڑی مقدار میں جدید اسلحہ دہشتگرد گروہوں کی دسترس میں موجود ہے۔
فتنہ الخوارج ایئر فورس’ کا قیام، تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی
مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق فتنہ الخوارج نے 25 دسمبر 2025 کو اپنے نئے تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا، جس میں نام نہاد فتنہ الخوارج ایئر فورس بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت گروپ کی بڑھتی ہوئی تنظیمی اور عسکری صلاحیتوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ اور ’فتنہ الخوارج‘ کے تعلقات بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ 28 اپریل کو القاعدہ نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر طالبان حکومت کے ساتھ ’فتنہ الخواج‘ کی پاکستان کے خلاف مہم کی حمایت کی۔
اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ ’فتنہ الخوارج‘ کو نظریاتی رہنمائی، تربیت اور آپریشنل معاونت فراہم کر رہی ہے، جبکہ القاعدہ کی قیادت کے ارکان اب بھی کابل میں موجود ہیں اور بعض کو نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے والے شناختی دستاویزات ملنے کی اطلاعات ہیں۔
القاعدہ علاقائی دہشتگرد نیٹ ورک کے طور پر منظم ہو رہی ہے
رپورٹ میں القاعدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تنظیم افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ علاقائی دہشتگرد نیٹ ورک کے طور پر بھی زیادہ منظم ہوتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:طالبان حکومت سے فرار ہونے والی افغان خواتین فٹبالرز کی بین الاقوامی میدانوں میں شاندار واپسی
مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط اور تعاون کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، جس سے خطے میں دہشتگردی کے خطرے کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔
’ای ٹی آئی ایم‘ یا ٹی آئی پی‘ کی نئی پناہ گاہیں، ڈرون صلاحیت میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق ’ای ٹی آئی ایم‘ یا ’ ٹی آئی پی‘ نے بدخشاں میں خود کو ازسرنو منظم کیا ہے اور قندوز میں نئی مضبوط پناہ گاہیں قائم کی ہیں۔
مانیٹرنگ ٹیم نے بتایا کہ نورستان میں گروپ کی عسکری تیاری، ڈرون صلاحیت اور تربیتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان اب غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے۔ گروہ اپنے ارکان کو شام سے افغانستان منتقل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں سیف الدین تاجیبایف، گل مراد خلیموف اور ابو بکر بدخشانی سمیت متعدد جنگجوؤں کے افغانستان پہنچنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ صومالیہ سے تعلق رکھنے والے الشباب کے بعض جنگجوؤں کی افغانستان آمد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
داعش خراسان، خطے کے لیے بڑا خطرہ برقرار
اقوام متحدہ کی رپورٹ نے داعش خراسان کو بھی افغانستان اور خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق داعش خراسان نے 19 جنوری کو کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ 10 اپریل کو ہرات میں شیعہ مزار پر حملہ افغانستان کی شیعہ اور ہزارہ برادریوں کو درپیش خطرے کی ایک اور مثال ہے۔
پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں 6 فروری کو اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے حملے اور 5 مئی کو شیخ محمد ادریس کے قتل کو بھی داعش سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
داعش خراسان کے پاس ڈرونز، نائٹ ویژن آلات اور تھرمل امیجرز کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے باعث اس کی آپریشنل صلاحیت اور حملوں کی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
جدید ہتھیار دہشتگردوں کی جنگی صلاحیت بڑھا رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کے پاس جدید ہتھیاروں بالخصوص نائٹ ویژن سسٹمز کی دستیابی ان کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ نے اس خطرے کو صرف روایتی دہشتگردی تک محدود نہیں رکھا بلکہ خبردار کیا ہے کہ القاعدہ اور داعش کی جانب سے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
’اے آئی‘ سے دہشتگرد پروپیگنڈا، نوجوانوں کی آن لائن بھرتی میں اضافہ
رپورٹ میں دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ داعش خراسان نے مصنوعی ذہانت، یعنی ’اے آئی‘ ، کا استعمال پروپیگنڈا مواد کی تیاری اور اسے تیزی سے پھیلانے کے لیے شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشتگرد گروہوں کا آن لائن پروپیگنڈا متعدد زبانوں میں پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ گیمنگ پلیٹ فارمز اور دیگر آن لائن جگہیں نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق سماجی تنہائی، شناخت اور پہچان کی خواہش اور نتائج سے محدود آگاہی جیسے عوامل نوجوانوں کو دہشتگرد تنظیموں کے لیے خاص طور پر حساس بناتے ہیں۔
فرانس میں 2023 کے بعد دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث 80 فیصد افراد کی عمریں 25 سال سے کم تھیں، جبکہ ترکیہ میں پرتشدد انتہا پسندی کے متعدد مقدمات میں 18 سال سے کم عمر افراد بھی شامل تھے۔
افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کا باہمی تعاون
رپورٹ کے مطابق داعش کے نیٹ ورکس فتنہ الہندوستان کو لاجسٹک معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں، جبکہ اس گروپ سے وابستہ دہشتگرد افغانستان میں القاعدہ سے تربیت حاصل کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، متنازع رپورٹنگ پر سوالات اٹھ گئے
مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق مختلف دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط، تربیت، نقل و حرکت، اسلحے اور ٹیکنالوجی تک رسائی افغانستان کو ایک ایسے ماحول میں تبدیل کر رہی ہے جہاں کئی تنظیمیں بیک وقت اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہیں۔
افغانستان کا دہشتگردی سے جڑا مسئلہ
افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے ملک میں موجود دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا باعث رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم طویل عرصے سے افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی، ان کے روابط اور علاقائی اثرات کی نگرانی کرتی رہی ہے۔
جنوری 2026 میں جاری ہونے والی 37ویں رپورٹ بھی افغانستان اور خطے میں دہشتگردی کے خطرات پر توجہ مرکوز کر چکی تھی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اسلام آباد مسلسل افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی سرحد پار کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ فروری 2026 کے باجوڑ حملے کے بعد پاکستان نے افغان حکام کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا تھا۔
اقوام متحدہ کا مجموعی انتباہ
38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردی کا مسئلہ کسی ایک تنظیم تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف گروہوں، تربیتی مراکز، اسلحے کے ذخائر، غیر ملکی جنگجوؤں، جدید ٹیکنالوجی اور باہمی تعاون پر مشتمل ایک وسیع تر نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں پر کارروائی میں 70 دہشتگرد ہلاک ہوئے، طلال چوہدری
رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج، القاعدہ، داعش خراسان اور ’ای ٹی آئی ایم یا ٹی آئی پی سمیت متعدد تنظیموں کو افغانستان میں آپریشنل گنجائش حاصل ہے، جبکہ ان کی بڑھتی ہوئی عسکری اور تکنیکی صلاحیتیں پاکستان، پڑوسی ممالک، وسطی ایشیا اور وسیع تر عالمی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہیں۔














