بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر آج مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے، جبکہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی اپیل پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا کے مختلف حصوں میں بھی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کیا جائےگا۔
مقبوضہ وادی میں بھارتی یوم آزادی کی تقریبات کے پیش نظر قابض انتظامیہ نے سیکیورٹی کے نام پر سخت اقدامات نافذ کررکھے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے خلاف بڑا آپریشن، بھارتی فورسز کے 26 مقامات پر چھاپے
سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ اہم شاہراہوں اور مقامات پر ناکہ بندی اور نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
سری نگر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم کو بھارتی یوم آزادی کی مرکزی تقریب کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے کئی حصار قائم کیے گئے ہیں، جہاں گاڑیوں کے علاوہ مسافروں اور راہگیروں کی بھی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔
مختلف مقامات پر چیکنگ اور نگرانی کا عمل جاری ہے، جبکہ شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ قابض انتظامیہ نے ممکنہ احتجاج اور مظاہروں کو روکنے کے لیے وادی بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
یوم سیاہ منانے کی اپیل
آل پارٹیز حریت کانفرنس نے بھارتی یوم آزادی کو کشمیریوں کے لیے یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں احتجاج کی اپیل کی ہے۔
حریت کانفرنس کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر جاری کنٹرول کے خلاف کشمیری عوام اپنے احتجاج کے ذریعے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کراتے ہیں۔
واضح رہے کہ کشمیری حریت قیادت طویل عرصے سے بھارتی یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے مواقع پر یوم سیاہ منانے کی اپیل کرتی رہی ہے۔
ان مواقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی، سخت نگرانی اور شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں میں اضافہ معمول بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرگئی، بھارتی حکومت کا اعتراف
دوسری جانب بھارت ان تقریبات کو اپنی خودمختاری اور ریاستی سطح کی تقریبات کے طور پر مناتا ہے، تاہم کشمیری حریت قیادت اور پاکستان ان تقریبات کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔














