جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کی سالگرہ کے موقع پر یاسوکونی مزار پر حاضری دی، جسے چین اور جنوبی کوریا جاپانی عسکریت پسندی اور جنگی جرائم کی علامت سمجھتے ہیں۔ البتہ وزیراعظم سانے تاکائچی نے سفارتی کشیدگی سے بچنے کے لیے اس بار مزار کا دورہ نہیں کیا۔
جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے ہفتے کے روز ٹوکیو میں یاسوکونی مزار کا دورہ کرکے دعا کی۔ یہ مزار دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والے جاپانی فوجیوں کے ساتھ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کی یاد بھی محفوظ رکھتا ہے، جس کے باعث چین اور جنوبی کوریا جاپانی سیاست دانوں کے یہاں حاضری کو جنگی مظالم پر عدم ندامت کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
شنجیرو کوئزومی جاپان کی جنگ کے خاتمے کی سالگرہ 15 اگست کو اس مزار پر باقاعدگی سے حاضری دیتے رہے ہیں، تاہم بطور وزیر دفاع ان کا موجودہ دورہ زیادہ حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم سانے تاکائچی کی حکومت جاپان کی دفاعی صلاحیت اور اسلحے کی فروخت بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس سے قبل کسی جاپانی وزیر دفاع نے 2024 میں مزار کا دورہ کیا تھا۔
وزیراعظم تاکائچی نے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد یاسوکونی مزار کا دورہ نہیں کیا، تاہم وہ اس کے دو سالانہ مذہبی تہواروں کے موقع پر نذرانے بھیج چکی ہیں۔
ہفتے کو حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے مشترکہ طور پر مزار پر دعا کی اور وزیراعظم کی جانب سے نقد نذرانہ بھی پیش کیا۔ جماعت کے سیکریٹری جنرل شونچی سوزوکی نے کہا کہ انہوں نے جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی روحوں کے لیے وزیراعظم کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے دعا کی۔
تاکائچی کی جانب سے یاسوکونی مزار سے دور رہنے کے فیصلے کو چین اور جنوبی کوریا کے ساتھ پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وہ جاپان کی جنگی تاریخ پر اظہارِ ندامت سے گریز کرتی رہی ہیں اور ماضی میں کوریائی مزدوروں اور جاپانی فوج کے لیے جنسی غلام بنائی جانے والی خواتین کے معاملے میں جبری مشقت کی تردید بھی کرچکی ہیں۔
تاکائچی جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کو اپنا سیاسی رہنما قرار دیتی ہیں، جن کے دور میں جاپان کی جنگی تاریخ کے حوالے سے قوم پرستانہ مؤقف کو تقویت ملی تھی۔














