انڈونیشیا کے مشرقی علاقے میں 7.7 شدت کے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 51 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ سڑکیں بند ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث قریباً 5 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق زلزلہ ہفتے کی صبح صوبہ ایسٹ نوسا ٹینگارا میں آیا، زلزلے کے بعد تقریباً 341 آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔
مزید پڑھیں: انڈونیشیا زلزلہ، جاں بحق افراد کی تعداد 47 تک پہنچ گئی، مزید اضافے کا امکان
حکام کے مطابق یہ زلزلہ حالیہ برسوں میں انڈونیشیا میں آنے والے شدید ترین زلزلوں میں شامل ہے۔ اس سے قبل 2022 میں مغربی جاوا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے بی این پی بی کے مطابق سِکا کے علاقے میں 3 ہزار 300 سے زیادہ افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی یا ایک اسپورٹس ایرینا میں پناہ لی۔
ضلع سِکا کے بعض علاقوں میں کئی افراد اپنے منہدم گھروں کے باہر عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ بندرگاہی شہر ماؤمیرے میں اسپتال کے باہر بھی خیمہ لگا کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
انڈونیشیا کے سرچ اینڈ ریسکیو ادارے کے مطابق امدادی ٹیمیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والے ماؤمیرے کے بعض علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
بی این پی بی کے مطابق لاپتا ہونے والے زیادہ تر افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ ایک ہزار 300 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
ریاستی توانائی کمپنی پرتامینا کے مطابق بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث 20 پیٹرول اسٹیشنز بھی کام نہیں کررہے۔
بی این پی بی کا کہنا ہے کہ ایسٹ نوسا ٹینگارا کی صوبائی حکومت ہنگامی حالت نافذ کرنے پر غور کررہی ہے، جس کے بعد حکام کے لیے امدادی وسائل اور فنڈز کو متحرک کرنا آسان ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں: جاپان میں 5.8 شدت کا زلزلہ، ہوکائیڈو اور آؤموری لرز اٹھے
انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی کے مطابق متاثرہ علاقے میں 1992 میں بھی 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔
قریباً 29 کروڑ آبادی پر مشتمل انڈونیشیا ایک وسیع جزیرہ نما ملک ہے جو ’پیسیفک رنگ آف فائر‘ پر واقع ہے۔ یہ خطہ ارضیاتی پلیٹوں کے باہمی اتصال کی وجہ سے شدید زلزلوں اور آتش فشاں سرگرمیوں کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔














