پاکستان کے تجربہ کار ٹیسٹ بلے باز سعود شکیل نے کہا ہے کہ پی سی سی سلیکٹ الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں سینچری نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ان کا اعتماد بڑھایا ہے، تاہم ان کے مطابق ٹیسٹ میچوں میں حالات پریکٹس میچ سے مختلف چیلنج پیش کرسکتے ہیں۔
سعود شکیل نے ہفتے کو کینٹ میں پی سی سی سلیکٹ الیون کے خلاف سینچری اسکور کی۔ یہ میچ 19 اگست سے لیڈز میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے قبل انگلینڈ کے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قومی ٹیم کی تیاریوں کا آخری مرحلہ تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا
بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے سعود شکیل نے کہاکہ میچ کے ابتدائی دنوں میں پچ پر بیٹنگ قدرے مشکل تھی، تاہم 2 دن گزرنے کے بعد اس میں بہتری آگئی۔
انہوں نے کہاکہ پہلے ٹیسٹ میں پچ اور موسم کی صورتحال کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم کینٹ میں موجود حالات کو دیکھتے ہوئے پچ قدرے خشک تھی اور گیند نے اسپن بھی حاصل کیا۔
سعود شکیل، جو ماضی میں یارکشائر کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں، نے کہا کہ ہیڈنگلے کی پچ کینٹ سے مختلف ہوسکتی ہے اور وہاں گیند کو زیادہ باؤنس ملنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق یارکشائر کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہیں ہیڈنگلے کی صورتحال کا کچھ تجربہ ہے اور وہاں پچ پر اضافی باؤنس دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
سعود شکیل نے کہاکہ انگلینڈ میں رواں موسم گرما کے حالات کو دیکھتے ہوئے پچ خشک رہنے کا امکان موجود ہے، جس سے اسپنرز کو بھی مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی ایک انداز کے حالات کو سامنے رکھ کر تیاری نہیں کررہا بلکہ ٹیم کو تیز گیند بازی یا اسپن، دونوں طرح کی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
پاکستان کو حالیہ برسوں میں بیرون ملک ٹیسٹ میچوں میں کامیابی کے لیے مشکلات کا سامنا رہا ہے، تاہم سعود شکیل کا کہنا ہے کہ ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز کو بھی ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور کامیابی حاصل کرنے کے ایک نئے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ چاہے ٹیسٹ اپنی سرزمین پر کھیلا جائے یا بیرون ملک، ہر میچ ایک نیا چیلنج لے کر آتا ہے اور یہی ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔
سعود شکیل نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ انگلینڈ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچز جیتے جائیں۔
پاکستانی بیٹنگ کے انداز کا دیگر ٹیموں کے ساتھ موازنہ کرنے کی اہمیت کو مسترد کرتے ہوئے سعود شکیل نے کہاکہ ٹیم اپنی حکمت عملی پچ کی صورتحال اور میچ کی ضرورت کے مطابق طے کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں حالات اور میچ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بیٹنگ کرنا ضروری ہے، اس لیے قومی ٹیم بھی صورتحال کے مطابق اپنا کھیل پیش کرےگی۔
وارم اپ میچ میں سینچری سعود شکیل کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی بیٹنگ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
سعود شکیل نے حالیہ دورہ ویسٹ انڈیز میں پاکستان کی کامیابی کو بھی ٹیم کے اعتماد میں اضافے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ بیرون ملک ٹیسٹ میچ جیتنا ہمیشہ بہت بڑا حوصلہ دیتا ہے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی سے ٹیم کا مورال بہت بلند ہوا۔
ان کے مطابق قومی ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی اسی کارکردگی کو جاری رکھنے کی کوشش کرے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی اوپنرعبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر
سعود شکیل نے کھلاڑیوں پر ہونے والی تنقید کو بھی ٹیسٹ کرکٹ کے سیکھنے کے عمل کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی اسی مقصد کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہیں کہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور اپنی صلاحیتوں میں بہتری لائیں۔
انہوں نے کہاکہ ٹیم دستیاب وسائل اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری کرےگی۔














