ارب پتی اور وویجر ٹیکنالوجیز کے بانی و چیف ایگزیکٹو ڈیلن ٹیلر نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 کی دہائی کے اوائل تک انسان چاند پر مستقل بنیادوں پر رہنے اور کام کرنے لگیں گے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام ’جناح-1‘ رکھ دیا گیا
ڈیلن ٹیلر کے مطابق خلائی صنعت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود محدود تعداد کے خلا بازوں سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر انسانی موجودگی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں چاند پر قائم بستیاں زمین سے بھی دکھائی دے سکیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ چاند پر ابتدائی طور پر قدرتی وسائل کی کان کنی، مدار میں ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے نظام کی تعمیر جیسے کام شروع ہوسکتے ہیں، جنہیں انسان مکمل طور پر روبوٹ کے حوالے نہیں کرسکیں گے۔
Elon Musk 🗣️
“The only way to reach 1,000 terawatts of AI power is a mass driver on the Moon.” pic.twitter.com/ptUS68Zn8I
— Finance Spot (@financespotnews) August 15, 2026
ٹیلر کے مطابق مریخ کے مقابلے میں چاند زیادہ قابلِ رسائی ہے، تاہم وہ مریخ پر مستقبل میں ایک چھوٹی انسانی کالونی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں:سونا، چاندی، آتش فشانی راکھ اور خفیہ اجزا سے بنی ٹی شرٹ: پہننے کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟
ایلون مسک 2028 سے مریخ کے لیے انسانی مشنز شروع ہونے کی پیش گوئی کرچکے ہیں، جبکہ جیف بیزوس نے 2045 تک خلا میں لاکھوں افراد کے رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔













