2030 کی دہائی میں انسان چاند پر رہنے اور کام کرنے لگیں گے؟

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ارب پتی اور وویجر ٹیکنالوجیز کے بانی و چیف ایگزیکٹو ڈیلن ٹیلر نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 کی دہائی کے اوائل تک انسان چاند پر مستقل بنیادوں پر رہنے اور کام کرنے لگیں گے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام ’جناح-1‘ رکھ دیا گیا

ڈیلن ٹیلر کے مطابق خلائی صنعت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود محدود تعداد کے خلا بازوں سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر انسانی موجودگی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں چاند پر قائم بستیاں زمین سے بھی دکھائی دے سکیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ چاند پر ابتدائی طور پر قدرتی وسائل کی کان کنی، مدار میں ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے نظام کی تعمیر جیسے کام شروع ہوسکتے ہیں، جنہیں انسان مکمل طور پر روبوٹ کے حوالے نہیں کرسکیں گے۔

ٹیلر کے مطابق مریخ کے مقابلے میں چاند زیادہ قابلِ رسائی ہے، تاہم وہ مریخ پر مستقبل میں ایک چھوٹی انسانی کالونی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں:سونا، چاندی، آتش فشانی راکھ اور خفیہ اجزا سے بنی ٹی شرٹ: پہننے کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟

ایلون مسک 2028 سے مریخ کے لیے انسانی مشنز شروع ہونے کی پیش گوئی کرچکے ہیں، جبکہ جیف بیزوس نے 2045 تک خلا میں لاکھوں افراد کے رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp