شوہر اور 2 کمسن بچیوں پر مبینہ تشدد، خاتون کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شوہر اور 2 کمسن بچیوں پر مبینہ تشدد کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے گرفتار خاتون آمنہ سعید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے آمنہ سعید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، دوران سماعت فریقین کے وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے۔

وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون نے اپنے شوہر کو 3 مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا، شوہر کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں، جبکہ خاتون کے قبضے سے لوہے کا راڈ بھی برآمد ہوا جو مبینہ طور پر پہلے سے تیار کرکے رکھا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، نجی موبائل کمپنی کی اپیلیں منظور

وکیل نے مزید الزام عائد کیا کہ خاتون نے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنی 2 کمسن بچیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ دوران سماعت وکلا کے دلائل پر عدالت میں قہقہے بھی گونجے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے، ’آپ خود بھی ہنس رہے ہیں، پوری عدالت بھی ہنس رہی ہے۔‘

عدالت نے استفسار کیا کہ ’یہ خاتون کوئی کمانڈو ہے کیا؟‘ خاتون کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عورت نے غصے میں شوہر کو مارا بھی ہے تو وہ گھر کی ’لارڈشپ‘ ہے، جس پر عدالت میں ایک بار پھر قہقہے گونجے اور جسٹس خادم حسین سومرو بھی مسکرا دیے۔

عدالت نے استفسار کیا، ’کیا شوہر کو پیٹ کر اس کو گاڑی میں اسپتال بھی لے کر گئی؟‘

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ خاتون نے فلسفے میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، خاندان کے بہت سے ایسے معاملات ہیں جنہیں عدالت میں زیر بحث نہیں لانا چاہتے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پی ایچ ڈی کے علاوہ خاتون اور کیا کام کرتی ہیں؟

مزید پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں سے اضافی ٹول وصولی روک دی

عدالت نے تفتیشی افسر سے بھی پوچھا کہ گرفتاری کے وقت خاتون کا ذہنی توازن چیک کروایا گیا تھا؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ خاتون کا ذہنی توازن چیک نہیں کروایا گیا۔

پولیس نے آمنہ سعید کو مقدمے میں گرفتار کر رکھا ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے آمنہ سعید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp