پاکستان سمیت دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ڈیٹنگ ایپ بمبل نے اپنے سب سے نمایاں اور منفرد اصول میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اب مردوں کو بھی میچ ہونے کے بعد پہلا پیغام بھیجنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹنگ ایپ پر دوستی، باکو جانے والی خاتون ممکنہ جنسی استحصال کے شبہے میں آف لوڈ
سنہ 2014 میں شروع ہونے والی بمبل کو دیگر ڈیٹنگ ایپس سے ممتاز کرنے والا سب سے بڑا اصول یہی تھا کہ مختلف جنس کے افراد کے درمیان میچ ہونے کی صورت میں گفتگو شروع کرنے کا اختیار صرف خاتون کے پاس ہوتا تھا۔
تاہم اب یہ اصول ختم کیا جا رہا ہے اور میچ ہونے کے بعد دونوں افراد میں سے کوئی بھی پہلا پیغام بھیج سکے گا۔ یہ تبدیلی ایک آزمائشی مرحلے اور صارفین سے حاصل ہونے والی رائے کے بعد کی گئی جس میں 66 فیصد خواتین نے مردوں کی جانب سے پہل کیے جانے کو ترجیح دی۔
پاکستان میں بھی صارفین کے لیے اہم تبدیلی
اگرچہ پاکستان میں ڈیٹنگ ایپس کا استعمال مغربی ممالک کی طرح عام نہیں تاہم بمبل سمیت مختلف ایپس استعمال کرنے والے صارفین موجود ہیں۔ ایسے صارفین کے لیے یہ تبدیلی خاصی اہم ہوسکتی ہے کیونکہ اب مردوں کو گفتگو شروع ہونے کے لیے خاتون کے پہلے پیغام کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
بمبل کی بانی اور سربراہ وٹنی وولف ہرڈ نے کہا کہ ایپ کا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ لوگوں کو رابطے کا صرف ایک ہی طریقہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔
مزید پڑھیے: ڈیٹنگ ایپ ‘بمبل’ پر پہلی ملاقات کے بعد نوجوان کو انکار مہنگا پڑ گیا، خاتون جنونی عاشق بن گئی
ان کے مطابق جب خواتین کی جانب سے پہل کرنے کا تصور متعارف کرایا گیا تو یہ ایک انقلابی خیال تھا لیکن اب صارفین زیادہ لچک، کم دباؤ اور بامعنی تعلقات قائم کرنے کے زیادہ مواقع چاہتے ہیں۔
میچ کے بعد بات شروع کرنے کے لیے 3 دن
بمبل نے صرف پہلے پیغام سے متعلق اصول ہی نہیں بدلا بلکہ میچ ہونے کے بعد گفتگو شروع کرنے کے لیے مقررہ وقت بھی بڑھا دیا ہے۔
اس سے قبل صارفین کو میچ ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر بات چیت شروع کرنی ہوتی تھی بصورت دیگر میچ ختم ہوجاتا تھا۔ اب صارفین کو اس مقصد کے لیے 72 گھنٹے یعنی 3 دن ملیں گے۔
صارفین میں اختلاف
ایپ کی اس بڑی تبدیلی پر آن لائن صارفین کی رائے منقسم نظر آ رہی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ خواتین کی جانب سے پہلا پیغام بھیجنے کا اصول ہی بمبل کی اصل شناخت تھا اور اس کے خاتمے کے بعد یہ ایپ دیگر ڈیٹنگ ایپس سے زیادہ مختلف نہیں رہے گی۔
کچھ مرد صارفین نے یہ بھی کہا کہ جب کوئی خاتون خود پہلا پیغام بھیجتی تھی تو اسے حقیقی دلچسپی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
اس اقدام پر خواتین بھی خوش
دوسری جانب کئی خواتین نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر بار خود گفتگو شروع کرنے کی ذمہ داری بعض اوقات دباؤ کا باعث بنتی تھی جبکہ بعض خواتین کو یہ تجربہ بھی ہوا کہ پہلا پیغام بھیجنے کے باوجود انہیں جواب نہیں ملتا تھا۔
پہلے بھی اصول میں نرمی آچکی تھی
بمبل نے اس سے قبل بھی اوپننگ مووز نامی ایک فیچر متعارف کرایا تھا جس کے ذریعے خواتین پہلے سے کوئی سوال یا پیغام درج کرسکتی تھیں جس کا جواب مرد دے سکتے تھے۔
تاہم نئی تبدیلی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے کیونکہ اب مختلف جنس کے میچ میں کسی بھی فریق کو براہ راست پہلا پیغام بھیجنے کی اجازت ہوگی۔ بمبل خود سنہ 2014 میں خواتین کو پہل کا اختیار دینے کے تصور کے ساتھ متعارف ہوئی تھی۔
ڈیٹنگ ایپس کو درپیش نئی مشکل
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آن لائن ڈیٹنگ کی دنیا میں صارفین کی دلچسپی اور مسلسل سوائپ کرنے کے طریقہ کار سے پیدا ہونے والی تھکن ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ مسلسل پروفائلز دیکھنے اور سوائپ کرنے کے باوجود حقیقی ملاقات یا بامعنی تعلق تک نہیں پہنچ پاتے جس کے باعث ڈیٹنگ ایپس سے اکتاہٹ بڑھ رہی ہے۔ بمبل کی یہ تبدیلی بھی صارفین کی دلچسپی اور ایپ پر سرگرمی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے نوجوان انجینئر کس طرح لٹیروں کے ہتھے چڑھ گیا؟
مختصراً بمبل کی وہ شناخت جس کے تحت کہا جاتا تھا کہ خواتین پہل کرتی ہیں اب ماضی کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ اب دنیا بھر میں یہ ایپ استعمال کرنے والے مرد اور خواتین دونوں میچ ہونے کے بعد گفتگو کا آغاز کرسکیں گے جبکہ بات شروع کرنے کے لیے انہیں پہلے کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ وقت بھی ملے گا۔














