بھارت کے سب سے بڑے اور مہنگے شہر ممبئی میں دولت اور غربت کے درمیان بڑھتے فرق کی ایک جھلک اس وقت سامنے آئی جب ایک شہری نے ایک چال میں واقع اپنے رشتے دار کی رہائشگاہ پر صرف ایک رات گزاری اور اس تجربے نے اس کے زندگی کو دیکھنے کا انداز بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ممبئی کے ریلوے اسٹیشن پر نوجوان لڑکی کے پاؤں سے لپٹ گیا، جذباتی منظر کی ویڈیو وائرل
چال دراصل ممبئی کی قدیم رہائشی عمارتوں کا ایک خاص انداز ہے جو برطانوی دور میں بالخصوص مزدور طبقے کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ عموماً کئی چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل ہوتی ہیں جہاں ایک ہی عمارت یا احاطے میں بڑی تعداد میں خاندان رہتے ہیں۔ اکثر چالوں میں کمرے محدود رقبے کے ہوتے ہیں جبکہ بیت الخلا، پانی اور دیگر سہولیات مشترکہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ممبئی کی چالیں صرف رہائش کی جگہ نہیں بلکہ شہر کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کا بھی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
ممبئی کے اس شہری نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ چال میں ایک رات گزارنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ بہت سے لوگ انتہائی محدود سہولیات کے باوجود کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی کے بارے میں شکایت نہیں کرے گا۔
ممبئی میں زمین کی قیمتیں طویل عرصے سے بہت زیادہ ہیں جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ مہنگے فلیٹس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں چالیں جو عموماً چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل رہائشی عمارتیں ہوتی ہیں کم آمدنی والے افراد کے لیے کئی دہائیوں سے سستی رہائش کا اہم ذریعہ رہی ہیں۔
اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے شہری نے بتایا کہ وہ ایک دور کے رشتہ دار کے گھر گئے تھے جہاں رات زیادہ ہونے پر انہیں وہیں رکنے کی پیشکش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ لوگ یہاں کس طرح رہتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں 5 سے 6 افراد سوتے ہیں کوئی خاص رازداری نہیں ہوتی اور اردگرد مسلسل شور رہتا ہے۔
مزید پڑھیے: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
انہوں نے بتایا کہ سب سے مشکل مرحلہ صبح کے وقت آیا جب انہیں مشترکہ بیت الخلا کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے آگے تقریباً 10 لوگ بالٹی لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمت نہیں کر سکا اور بیت الخلا استعمال کیے بغیر واپس آگیا۔
تاہم شہری کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اتنی مشکلات کے باوجود چال میں رہنے والے کئی افراد مطمئن نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور خود کو ایک خاندان کی طرح سمجھتے ہیں۔
مذکورہ شہری کی پوسٹ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی اور صارفین نے مختلف تبصرے بھی کیے۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ چالوں میں رہ کر بعد میں بہتر حالات میں منتقل ہوئے وہ جانتے ہیں کہ اپارٹمنٹ کی زندگی زیادہ آرام دہ ہوتی ہے جبکہ ایک اور صارف نے بتایا کہ وہ 30 سال تک جنوبی ممبئی کی چال میں رہے لیکن بعد میں فلیٹ منتقل ہوگئے۔
کچھ لوگوں نے چال کی زندگی کے مثبت پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا تاہم کئی افراد نے کہا کہ وہاں رہنا مجبوری ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ بہتر سہولیات کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ چال میں گزارا جہاں گھر میں بیت الخلا، اے سی اور رازداری جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں لیکن محنت کے بعد حالات بہتر ہوئے اور وہ دوبارہ اس طرز زندگی کی طرف واپس نہیں جانا چاہیں گے۔
مزید پڑھیں: ممبئی میں سیاسی ریلی کے باعث ٹریفک جام پر خاتون کی ریاستی وزیر سے تلخ کلامی، ویڈیو وائرل
ممبئی کی چالیں جہاں ایک طرف شہر کی تاریخ، محنت کش طبقے اور اجتماعی زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں وہیں یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بڑے شہروں میں لاکھوں افراد آج بھی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔













