جاپان کی مریخ کے چاندوں سے نمونے حاصل کرنے کے لیے اہم مشن کی تیاری

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان نے مریخ کے چاندوں کے راز جاننے اور نظامِ شمسی کی تشکیل سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری مکمل کرلی ہے۔

جاپانی خلائی ادارے کے بغیر انسان کے خلائی مشن ‘مارٹین مونز ایکسپلوریشن’ کو آئندہ چند ماہ میں تانیگاشیما خلائی مرکز سے روانہ کیا جائے گا۔ خلائی جہاز تقریباً 3 سال مریخ کے مدار میں رہے گا اور مریخ کے چاند فوبوس پر اترنے کی کوشش کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر 14 سالہ تحقیق کے بعد شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت

فوبوس کی سطح پر اترنے کے بعد خلائی جہاز کم از کم 10 گرام نمونے حاصل کرے گا، جبکہ آئیڈیفکس نامی گاڑی چاند کی سطح کا مشاہدہ کرے گی۔

مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا خلائی جہاز صرف مشاہدہ کرے گا اور وہاں اترنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ مشن مکمل ہونے کے بعد نمونوں پر مشتمل واپسی کیپسول زمین کی جانب روانہ ہوگا اور 2031 میں آسٹریلیا میں اترے گا۔

جاپانی خلائی ادارے کے مطابق اس مشن کا مقصد مریخ اور اس کے چاندوں کی تشکیل کی تاریخ جاننا اور نظامِ شمسی کی پیدائش سے متعلق اہم شواہد حاصل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر زندگی کس جگہ تلاش کی جائے؟ ’شیطان کیڑے‘ نے سائنسدانوں کو نیا اشارہ دے دیا

مریخ کے چاندوں کی ابتدا سے متعلق ایک اہم نظریے کے مطابق یہ چاند مریخ سے ایک بڑے فلکیاتی تصادم کے نتیجے میں وجود میں آئے، جبکہ ایک دوسرے نظریے کے تحت یہ بیرونی نظامِ شمسی سے آنے والے سیارچے ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی جانب کھینچ لیا۔

جاپانی خلائی ادارے کے مطابق ان دونوں نظریات میں سے درست نظریے کا تعین اس بات کو سمجھنے میں مدد دے گا کہ زمینی سیاروں پر زندگی کے لیے سازگار ماحول کیسے وجود میں آیا۔

مریخ کے چاندوں پر تحقیق کرنے والے فرانسیسی ماہرِ فلکیات پیٹرک مشیل کے مطابق اگر فوبوس اور ڈیموس ابتدائی دور میں زندگی کے لیے ضروری مواد پہنچانے والے ذرائع کی باقیات ہیں تو ان میں زندگی کی ابتدا یا ان بنیادی مواد کی منتقلی سے متعلق اہم شواہد موجود ہوسکتے ہیں جو چٹانی سیاروں پر زندگی کے ظہور کے لیے ضروری تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

جاپانی خلائی ادارے کے مطابق یہ مشن مستقبل میں انسانوں کے مریخ تک سفر کی صلاحیت پیدا کرنے کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp