ترکیہ کے شہر ازمیر کے قریب زیتون کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان ایک ایسا غار موجود ہے جسے مقامی لوگ نسلوں سے ہومر کی غار قرار دیتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا جارج آرویل کا ناول حقیقت بنتا جا رہا ہے؟ ڈیجیٹل نگرانی پر دنیا بھر میں نئی بحث
اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات مشہور ہے کہ عظیم یونانی شاعر ہومر نے اسی مقام پر اپنی شہرۂ آفاق رزمیہ نظم اوڈیسی تخلیق کی تھی۔
اگرچہ اس دعوے کا کوئی حتمی تاریخی ثبوت موجود نہیں لیکن ہومر کے ساتھ ازمیر اور اس کے گردونواح کا تعلق صدیوں پرانا ہے۔ اب کرسٹوفر نولن کی فلم دی اوڈیسی کی وجہ سے ہومر اور اس کی شہرہ آفاق داستان میں دنیا بھر کی دلچسپی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جس کے بعد ترکیہ میں اس پراسرار غار کا چرچا بھی دوبارہ ہونے لگا ہے۔
ترکیہ کے محقق التان التن جنہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے کے مطابق مقامی لوگ ہمیشہ اس علاقے کو ’ہومر کی وادی‘ کہتے رہے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے مسافر اس غار کو دیکھنے آتے رہے ہیں جہاں روایت کے مطابق ہومر نے اپنی شاعری تخلیق کی۔
ہومر کہاں پیدا ہوئے اور کہاں لکھا؟
ہومر کی زندگی کے بارے میں بھی بہت کم باتیں یقین سے معلوم ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوئے، کہاں رہے اور اپنی عظیم نظمیں کہاں لکھیں۔ یونان کا جزیرہ خیوس بھی ہومر کی جائے پیدائش ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم قدیم شہر سمیرنا، جو موجودہ ازمیر کے علاقے میں واقع تھا بھی طویل عرصے سے شاعر کے ساتھ منسلک رہا ہے۔
دوسری صدی عیسوی کے یونانی مؤرخ اور جغرافیہ دان پاؤسانیاس نے بھی سمیرنا کے دریائے میلیس اور اس کے چشموں کے قریب ایک غار کا ذکر کیا تھا جہاں مقامی روایت کے مطابق ہومر نے اپنی نظمیں تخلیق کیں۔
قدیم زمانے میں ازمیر کا وسیع علاقہ آئیونیا کہلاتا تھا اور یہ قدیم یونانی تہذیب کا ایک اہم خطہ تھا۔ اسی وجہ سے ہومر کی اصل نسبت آج بھی ترکیہ اور یونان کے درمیان ایک دلچسپ تاریخی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
غار میں قدیم راز کے دعوے
ہومر سے منسوب یہ غار عام سیاح کے لیے آسان مقام نہیں۔ اس کے اندر چٹانیں موجود ہیں اور دیواروں پر یونانی زبان میں مختلف تحریریں بھی نظر آتی ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تحریریں کتنی پرانی ہیں۔
محقق التان التن کا کہنا ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح کے ایک سنگی نقش میں ہومر کو دیوتا کا درجہ دیے جانے کا منظر دکھایا گیا ہے اور اس نقش میں ایسی جغرافیائی تفصیلات موجود ہیں جو موجودہ غار سے حیرت انگیز حد تک ملتی جلتی ہیں۔
مزید پڑھیے: معروف برطانوی جاسوسی ناول نگار لین ڈیٹن 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
ان کے مطابق یہ تفصیلات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قدیم زمانے میں بھی اس مقام کو ہومر کے ساتھ جوڑا جاتا تھا۔
علاقے میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے ملنے والے شواہد بھی ہومر سے تعلق کی بحث کو تقویت دیتے ہیں۔ ماہر آثار قدیمہ مہمت عاکف اردم کے مطابق قدیم سمیرنا سے ملنے والے ایسے سکے جن پر ہومر کی شبیہ موجود ہے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ اس شہر کے باشندے شاعر کو اپنا ہی سمجھتے تھے۔
ازمیر میں ہومر آج بھی زندہ ہے
ہومر کی نسبت صرف اس غار تک محدود نہیں۔ ازمیر کے علاقے بورنووا میں مختلف مقامات پر شاعر کی یادگاریں موجود ہیں جبکہ یہاں ہومر کے نام سے کتاب میلہ بھی منعقد کیا جاتا ہے اور ایک مقامی پارک میں ٹروئے کی جنگ کے ہیرو ہیکٹر کا مجسمہ بھی موجود ہے۔

بورنووا کے حکام اب ہومر سے منسوب غار کی تزئین و آرائش کرکے اسے سیاحوں کے لیے کھولنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ قدیم شاعر سے وابستہ اس مقام کو عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کرایا جاسکے۔
بورنووا کے میئر عمر اشقی کا کہنا ہے کہ ہومر کی میراث محفوظ رکھنا انسانیت کے لیے ایک ذمہ داری ہے کیونکہ وہ عالمی ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ہومر کے نام پر تنازع بھی
تاہم ہومر سے منسوب اس مقام پر سب متفق نہیں۔ سنہ 2024 میں ترکیہ کی حکمران جماعت اے کے پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی عہدیداروں نے تجویز دی تھی کہ ’ہومر کی وادی‘ کا نام تبدیل کرکے اسے ایک ترک جنگجو سے منسوب کیا جائے۔
بورنووا کے میئر نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہومر کا نام مٹانا علاقے کے لیے ایک بڑی غلطی ہوگی۔ ان کا مقصد ہومر کو دنیا کے سامنے بورنووا سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے طور پر متعارف کرانا اور اس علاقے کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانا ہے۔
’ہومر یونانی بھی ہے، اناطولیائی بھی‘
ہومر کے حوالے سے دلچسپی میں کرسٹوفر نولن کی فلم دی اوڈیسی کی وجہ سے بھی اضافہ ہوا ہے۔ ازمیر میں کتاب فروش مصطفیٰ کوچیئت کے مطابق فلم کی مقبولیت نے ہومر کی نظم اوڈیسی کی فروخت میں بھی اضافہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ناول نگار بیپسی سدھوا انتقال کرگئیں
مقامی شہریوں میں بھی ہومر کو اپنے علاقے سے منسوب کرنے پر فخر پایا جاتا ہے۔ ایک مقامی استاد کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے معلوم تھا کہ ہومر کا تعلق اسی خطے سے ہے لیکن یہ جان کر انہیں خاص طور پر خوشی ہوئی کہ اسے ازمیر سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
محقق التان التن کا کہنا ہے کہ الیڈ اور اوڈیسی کا مطالعہ کرنے سے بھی انہیں ایسے ثقافتی اور جغرافیائی اشارے ملتے ہیں جو ہومر کے اناطولیائی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تاہم ان کے نزدیک ہومر کی نسبت ترکیہ اور یونان کے درمیان مقابلے یا تنازع کا سبب نہیں بننی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہومر تقریباً 2800 سال پرانی شخصیت ہے جبکہ جدید ترکیہ اور یونان کے درمیان موجود سرحد صرف تقریباً ایک صدی پرانی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہومر یونانی بھی ہے اور ہومر اناطولیائی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس سے زیادہ پرانا نہیں حتیٰ کہ ہمارے ممالک بھی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ہم جارج آرویل کے ناول 1984 کا کردار ہیں؟
یوں ازمیر کے قریب موجود یہ غار آج بھی ایک ایسے سوال کو زندہ رکھے ہوئے ہے جس کا شاید کبھی قطعی جواب نہ مل سکے کہ کیا واقعی دنیا کے عظیم ترین شعرا میں شمار ہونے والے ہومر نے اپنی شہرۂ آفاق ’اوڈیسی‘ انہی خاموش چٹانوں کے درمیان بیٹھ کر لکھی تھی؟














