’صرف دستاویزی فلمیں بنانے سے ناکامی کامیابی میں نہیں بدل سکتی‘: آئی ایس پی آر کا بھارتی پروپیگنڈے پر کرارا جواب

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارت کی جانب سے معرکہ حق کے واقعات کو مسخ کرنے کے لیے بنائی گئی نام نہاد ڈاکومنٹری کو خود ساختہ، من گھڑت اور حقائق کے برعکس پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ انداز کی ڈرامائی فلمیں بنانے اور حقائق میں تحریف کرنے سے بھارتی فوج کی تاریخی شکست کو فتح میں نہیں بدلا جا سکتا۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق معرکہ حق کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھارت تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔ ناکام فوجی مہم جوئی میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے بھارت نے تاریخ کو اپنی پسند کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔

’تاریخ کو مسخ کرنے کی اسی کوشش کے تحت بھارتی مواد سازوں (Content Creators) نے نام نہاد ’آپریشن سندور’ پر ایک انتہائی ڈرامائی، من گھڑت اور حقائق کے منافی ڈاکومنٹری تیار کی ہے، جسے بھارتی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے انٹرویوز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ سنجیدگی اور گہرائی سے محروم یہ ڈاکومنٹری ایک ہی وقت میں مضحکہ خیز ڈراما معلوم ہوتی ہے۔ قائم شدہ حقائق کو بدلنے اور آپریشنل نتائج کو نئی شکل دینے کے لیے کٹ چھٹ کیے گئے انٹرویوز، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی سنسنی خیز ڈرامائی عکاسی کا سہارا لیا گیا ہے۔‘

’خاص بات یہ ہے کہ اس ڈاکومنٹری کے بیانیے میں بنیادی تضادات موجود ہیں، جو اپنے ملک کے اندر عوامی پسند کا خود ساختہ بیانیہ بنانے کی تاخیر سے کی جانے والی کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

آئی ایس پی آر کے مطابق ڈاکومنٹری میں 16 اپریل 2025 کو آرمی چیف آف پاکستان کے خطاب کو 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے، جو کہ کسی بنیاد کے بغیر سازشی نظریہ گھڑنے کے مترادف ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ پہلگام واقعے کے تینوں مبینہ ملزمان کو نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد، 28 جولائی 2025 کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجود ڈاکومنٹری میں نام نہاد آپریشن سندور کو پہلگام کے ذمہ داروں کے خلاف کی گئی کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اگر مبینہ ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تھے تو بھارت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ 7 مئی 2025 کو اس نے کس کو سزا دینے کا دعویٰ کیا تھا؟

’اسی طرح ڈاکومنٹری میں ’100 فیصد مشن کی کامیابی‘ کا دعویٰ بھی حقیقت اور آپریشنل ریکارڈ سے بالکل برعکس ہے۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور بھارت کے 8 فوجی طیارے مار گرائے۔ اس کے بعد پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت فتح گائیڈڈ راکٹ و میزائل، پاک فضائیہ کے حتمی نشانہ بنانے والے گولہ بارود، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور درست نشانہ باندھنے والی آرٹلری کا استعمال کرتے ہوئے 26 بھارتی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جو پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے اور پاکستان کے خلاف دہشتگردی کو فروغ دینے میں ملوث تھیں۔‘

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ ڈاکومنٹری خود اپنے بھارتی تسلط کے دعوے کی نفی کرتی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت نے خود پاکستان کے وسیع میزائل، ڈرون اور فضائی کارروائیوں، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹمز کے فعال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان اعترافات کے بعد پاکستان کو قطعی طور پر شکست خوردہ پیش کرنے کے دعوے بالکل بے بنیاد ثابت ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے معرکہ حق کی یاد منانا بھارت کے لیے واضح پیغام، چیلنجز کے مدمقابل ’بنیان مرصوص‘ کی مانند متحد ہیں، کور کمانڈرز کانفرنس

’جنگ بندی سے متعلق ڈاکومنٹری کا بیان بھی کم حقیقت کشا نہیں ہے۔ اس کے اپنے بیانیے سے تصدیق ہوتی ہے کہ جنگی کارروائیاں دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز (DGMOs) کے درمیان رابطے اور باہمی اتفاقِ رائے سے ختم ہوئی تھیں۔ یہ حقیقت ہی ’آپریشن سندور‘ کو بھارت کی یکطرفہ فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کا ابطال کرتی ہے۔ امریکا کی سہولت کاری سے طے پانے والی جنگ بندی کو بعد میں غیر مشروط فتح کا ثبوت بنا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

ترجمان ادارے نے کہا کہ ڈاکومنٹری کشیدگی میں اضافے کی حکمت عملی (Escalation Dynamics) پر بھی اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتی ہے۔ ایک طرف سرپرائز، بالادستی اور اندر تک حملوں کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ بھارت نے لچک دکھاتے ہوئے پاکستان کو ’باہر نکلنے کا راستہ‘ (Exit Window) فراہم کیا۔ یہ متضاد دعوے ثابت کرتے ہیں کہ یہ ’پروڈکشن‘ حقائق پر مبنی عسکری تجزیہ نہیں بلکہ محض اندرونی عوام کے لیے تیار کردہ ایک بیانیہ ہے۔

’بھارت نے سچائی کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی عسکری غلطی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک پروپیگنڈا ویڈیو تیار کی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے معرکہ حق کے دوران بھارت کے 8 طیارے مار گرائے، اسکور 8-0 رہا، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف

آئی ایس پی آر نے کہا کہ فلمی انداز کی کوئی بھی عکاسی واقعات کی ترتیب کو بدل سکتی ہے، نہ طیاروں کی تباہی اور عسکری نقصانات کو چھپا سکتی ہے، اور نہ ہی میدانِ جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں بدل سکتی ہے۔

’پاکستان کو معرکہ حق کے حوالے سے کوئی من گھڑت بیانیہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے ثبوت، سفارتی رابطے اور خود بھارت کے بعد میں سامنے آنے والے بیانات اس کے گواہ ہیں اور عالمی برادری بھی ان کا اعتراف کرتی ہے۔‘

پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ تاہم، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور باصلاحیت ہیں۔ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا منہ توڑ اور سخت جواب دیا جائے گا، جس کے بعد کوئی بھی سنیما پروپیگنڈا بھارت کو خفت سے نہیں بچا سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شامل حسین اور سعد خان کی سینچریاں، شاہین کی تباہ کن بولنگ، پاکستان گولڈ نے نیشنل چیمپیئنز کپ جیت لیا

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 34 پیسے، ڈیزل 5 روپے 27 پیسے مہنگا

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد