پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور مزدور حقوق کی علمبردار بیگم نفیسہ خالد طویل علالت کے بعد 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ 1977 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں اور ’مادرِ مزدور‘ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔
بیگم نفیسہ خالد نے پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی لیبر ونگ کی صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور مزدوروں، محنت کشوں اور معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھاتی رہیں۔ وہ 1977 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کے باعث انہیں ’مادرِ مزدور‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
1947 میں بھارت سے ہجرت کے بعد بیگم نفیسہ خالد اور ان کے خاندان نے گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی۔ ان کے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، جبکہ وہ بیگم نصرت بھٹو اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے بھی اچھے مراسم رکھتی تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو پنجاب کے دوروں کے دوران اکثر ان کے گھر قیام کرتی تھیں۔ بیگم نفیسہ خالد، روزنامہ پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر انچیف اشرف ہاشمی کی ساس اور قومی اسمبلی کے اسپیشل سیکریٹری سید شمعون ہاشمی کی نانی تھیں۔
بیگم نفیسہ خالد کے پسماندگان میں ایک بیٹی شامل ہے، جبکہ ان کے دیگر تمام بچے اور شوہر پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر، خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور سیکریٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے بیگم نفیسہ خالد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مرحومہ پارٹی کا اثاثہ تھیں اور پیپلز پارٹی کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی بیگم نفیسہ خالد کی سیاسی، پارلیمانی اور سماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کے استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ویمن پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بیگم نفیسہ خالد ایک ممتاز سیاسی و پارلیمانی شخصیت تھیں جنہوں نے اپنی زندگی جمہوریت، عوامی خدمت اور فلاحِ عامہ کے لیے وقف کر دی۔














