سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق آج کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے تحریری فیصلہ قلم بند کیا۔ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل تحریری جواب جمع کرانے اور ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔
مزید پڑھیں:بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی جیل رولز کے تحت 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
تحریری فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے علاج کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں عمران خان کی آنکھ کا ریٹینا کے ماہر سے علاج اور ذاتی معالجین تک رسائی دینے کی استدعا کی گئی تھی، جبکہ اہلخانہ کو طبی معائنے اور علاج کے دوران مناسب رسائی فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 12 مارچ 2026 کو طبی سہولیات سے متعلق درخواست مسترد کردی تھی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
SUPREME COURT OF PAKISTAN by nisar.khan74
سپریم کورٹ نے طبی رپورٹ کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی صحت میں بظاہر خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے عبوری طور پر عمران خان کے فوری طبی معائنے اور علاج کے لیے مناسب انتظامات کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ زیر حراست شخص بھی انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولیات کا حقدار ہے۔ ریاست اور عدالت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے کہ زیر حراست افراد کی زندگی، صحت، عزت اور سلامتی کا تحفظ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اسپتال منتقلی کا فیصلہ: اب 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، تجزیہ کار
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے گرفتاری سے اب تک تمام ٹیسٹ رپورٹس، نسخے، طبی آرا اور علاج کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران عمران خان کی اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں، جبکہ ان کے خلاف زیر سماعت، زیر حراست، ٹرائل یا سزا یافتہ تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
تحریری فیصلے میں عمران خان کو آئندہ دو روز میں شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور طبی معائنے و علاج کے لیے 5 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میڈیکل بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراض داخلیہ، ماہر امراض چشم اور کارڈیالوجسٹ شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی طبی معائنے اور علاج میں شریک ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج اور سہولیات کے اخراجات بانی پی ٹی آئی یا ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم، کیا مسلم لیگ ن اس معاملے سے بالکل لاتعلق تھی؟
سپریم کورٹ نے حکومت کو عمران خان سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں اپنے بیٹوں سے ہفتے میں 2 مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے احاطے میں کسی بھی قسم کا عوامی اجتماع نہ ہونے کو یقینی بنانے اور بانی پی ٹی آئی یا ان سے وابستہ افراد کو طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں فراہم کردہ سہولیات فوری واپس لی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے قیام کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی بھی حکومت کو ہدایت کی ہے۔
عمران خان کے معائنے اور علاج کی مکمل طبی رپورٹس آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ میں پیش کی جائیں گی۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے اور دیگر اعتراضات کا فیصلہ آئندہ سماعت پر کرنے کا قرار دیا ہے۔














