فلم ’نایاب‘ کے ہدایت کار عمیر ناصر علی نے فلم کو ٹیلی ویژن پر نشر کرنے سے قبل ان کی مشاورت کے بغیر اہم مناظر حذف کیے جانے پر اعتراض اٹھا دیا۔
عمیر ناصر علی نے پیر کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں کہا کہ ان کی ایوارڈ یافتہ فلم ’نایاب‘ کو اتوار کے روز ہم ٹی وی پر نشر کیا گیا تاہم اس کے لیے تیار کیے گئے ورژن میں فلم کے کئی اہم مناظر شامل نہیں تھے۔

ہدایت کار کے مطابق فلم کی ٹیم سے مشاورت کے بغیر مناظر حذف کرنا ان کے لیے ’ایک مشکل احساس‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینما ایک فن کی صنف ہے اور مکمل ہونے والی فلم میں اس طرح تبدیلی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی مکمل پینٹنگ کو کسی مخصوص دیوار کے مطابق تبدیل کیا جائے۔
عمیر ناصر علی نے واضح کیا کہ وہ ٹیلی ویژن کی اپنی حدود کو سمجھتے ہیں اور بعض اوقات فلم کو ٹی وی پر نشر کرنے کے لیے ترمیم ضروری ہوتی ہے تاہم ان کے خیال میں براڈکاسٹرز کو ایسے فیصلوں میں فلم کے ہدایت کار کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، سید محمد احمد کا چونکا دینے والا انکشاف
انہوں نے بتایا کہ ’نایاب‘ کے ٹی وی ورژن سے مرکزی کردار نایاب، جسے یمنیٰ زیدی نے ادا کیا اور اس کے بھائی اکا، کا ایک اہم جذباتی منظر حذف کیا گیا۔ اس کے علاوہ نایاب کے والد شاہد، کا کردار جاوید شیخ نے ادا کیا، کی جانب سے اپنی بیٹی کو ماضی کے بارے میں بتانے والا منظر بھی نکال دیا گیا۔
ہدایت کار کے مطابق مذکورہ منظر میں شاہد 1990 کی دہائی کے ہنگامہ خیز دور میں کراچی میں اپنی زندگی کے تجربات نایاب کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ منظر شاہد کے کردار اور اس کے سفر کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ فلم کے بنیادی موضوعات میں سے ایک کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی نے پہلا ڈراما کب کیا اور ایک ڈرامے کے بعد اداکاری کیوں چھوڑ دی؟
عمیر ناصر علی نے کہا کہ اس منظر کو مختصر یا حذف کرنے سے صرف فلم کے دورانیے پر اثر نہیں پڑا بلکہ اس کے مجموعی بیانیے اور کہانی کے تسلسل کو بھی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فلم کو ٹیلی ویژن کے لیے ایڈٹ کیے جانے پر اعتراض نہیں، ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ حتمی ایڈٹ میں تبدیلیاں ہدایت کار سے مشاورت کے بغیر کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پروڈکشن ٹیم اور براڈکاسٹر کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی کے لیے تیار کیے جانے والے ورژن کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کون سے مناظر مختصر کیے جا سکتے ہیں اور اس عمل کے دوران فلم کے بیانیے، کرداروں اور جذباتی سفر کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا ایک اور فالس فلیک ڈرامہ بے نقاب، مودی سرکار اور گودی میڈیا تذبذب کا شکار
عمیر ناصر علی نے مزید بتایا کہ ’نایاب‘ کے ساتھ اس نوعیت کی ترمیم پہلی بار نہیں ہوئی تاہم یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے اس معاملے پر عوامی سطح پر بات کی ہے۔
ہدایت کار کے مطابق گزشتہ نشریات میں بھی انہیں فلم میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بارے میں معلوم ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے ’ہم فلمز‘ سے درخواست کی تھی کہ آئندہ فلم کو مکمل طور پر نشر کیا جائے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے کو حل نہیں کیا گیا‘۔














