ایک ایسے وقت میں جب روایتی ہالی ووڈ فلمی صنعت انضمام، ملازمتوں میں کمی اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بحران سے گزر رہی ہے، ‘مائیکرو ڈراما’ (Microdramas) کے نام سے ایک نئے رجحان نے تفریحی دنیا میں طوفان برپا کر دیا ہے۔
چین سے شروع ہونے والے موبائل فونز کے لیے تیار کردہ ان 2 منٹ کے ‘ورٹیکل ڈراموں’ کی آمدنی رواں سال صرف امریکا میں 1.5 ارب ڈالر اور اگست 2027 تک 2 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس نے روایتی ہالی ووڈ انڈسٹری کو حیران کر دیا ہے۔
جب کریگ ولیمز نے 2 سال قبل وسطی لاس اینجلس میں اپنی پروڈکشن عمارت کھولی، تو ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی نئی فلمی کمپنی کو چلانے کے لیے اس پرانے گودام کو کبھی کبھار میوزک ویڈیوز کے لیے کرائے پر دیں گے لیکن 65 سالہ ولیمز کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک بالکل نئے رجحان، یعنی موبائل فونز کے لیے بنائے جانے والے دو دو منٹ کے ’مائیکرو ڈراموں‘ کی وجہ سے ان کا تمام سیٹ مسلسل بک رہے گا۔
ولیمز، جو کبھی ڈیتھ رو ریکارڈز کے میوزک پروڈیوسر ہوا کرتے تھے، اب ’ورٹیکل ورلڈ اسٹوڈیوز‘ کے نام سے 3 بڑے پروڈکشن اسٹوڈیوز چلا رہے ہیں۔ انہوں نے سونی پکچرز اور پیراماؤنٹ جیسے بڑے ہالی ووڈ اسٹوڈیوز سے انتہائی سستے داموں اسپتال، پولیس اسٹیشن اور کورٹ روم جیسے سیٹ خرید کر اپنے اسٹوڈیوز میں سجائے ہیں تاکہ ان تیز رفتار موبائل شوز کی شوٹنگ ہو سکے۔
یہ تبدیلی غیر متوقع نہیں ہے۔ ہالی ووڈ اس وقت سکڑ رہا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے ملاپ کے باعث فلموں اور ڈراموں کی پیداوار کم ہو رہی ہے، اداکاروں کو مصنوعی ذہانت (AI) کے باعث ملازمتیں چھن جانے کا ڈر ہے اور سٹریمنگ کمپنیاں یوٹیوب کے سامنے گراؤنڈ کھو رہی ہیں۔ اس صورتحال میں صرف مائیکرو ڈراما ہی وہ واحد شعبہ ہے جو تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
تحقیقاتی ادارے ‘اوماڈیا’ (Omdia) کے مطابق امریکا میں رواں برس مائیکرو ڈراموں کا بزنس 1.5 ارب ڈالر اور آئندہ سال تک 2 ارب ڈالر تک جا پہنچے گا۔ اگرچہ امریکا میں روایتی ٹی وی کا بزنس 125 ارب ڈالر ہے، لیکن ‘پرائس واٹر ہاؤس کوپرز’ کا کہنا ہے کہ کیبل نیٹ ورکس کی بندش کے باعث اس میں سالانہ 15 ارب ڈالر کی کمی آ رہی ہے۔ اس کے برعکس ٹک ٹاک سمیت دنیا بھر میں ورٹیکل ویڈیوز کی آمدنی رواں سال 150 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
چینی اثر و رسوخ اور نئے روزگار کی آمد
مائیکرو ڈراموں کا آغاز اصل میں چین سے ہوا تھا اور اس کی کامیابی نے ’ریل شارٹ‘ (ReelShort) اور ’گڈ شارٹ‘ (GoodShort) جیسی چینی حمایت یافتہ ایپس کو ہالی ووڈ میں پائیدار قدم جمانے کا موقع دیا ہے۔ اس نئے فارمیٹ نے ہالی ووڈ کے بے روزگار اداکاروں، مصنفین، ہدایت کاروں اور تکنیکی عملے کو روزگار کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔
مائیکرو ڈراموں میں کام کرنے والے امریکی اداکار رابرٹ پالمیر واٹکنز کا کہنا ہے کہ اس فارمیٹ نے میری مالی صورتحال کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، ہالی ووڈ کی ہڑتالوں کے بعد کام نہ ملنے کے دور میں یہ میرے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے۔
سنسنی خیز سسپنس اور موبائل اسکرین کا جادو
مائیکرو ڈرامے صدیوں پرانے ڈرامائی فارمولے ’سسپنس اور سسپینشن‘ (Cliffhanger) کو ہی استعمال کرتے ہیں لیکن اب یہ سنسنی آپ کو موبائل اسکرین پر ملتی ہے۔ ان کی اقساط 45 سیکنڈ سے لے کر 2 منٹ طویل ہوتی ہیں، جن میں کوئی طویل سسپنس پیدا کرنے کے بجائے ناظرین کو فوراً کہانی کے سنسنی خیز موڑ پر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔
امریکا میں مائیکرو ڈرامے دیکھنے والے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد گزشتہ سال 66 ملین تک پہنچ گئی جو کہ 2024 میں صرف 26 ملین تھی۔ ان شوز کی بنیادی ناظرین 25 سے 55 سال کی خواتین ہیں۔ ‘کینڈی جار’ (CandyJar) جیسے پلیٹ فارم پر ہفتے میں ایک نیا رومانی ڈراما ریلیز ہوتا ہے اور اس ایپ کی سالانہ فروخت 100 ملین ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔ اس کے ہر سیزن میں 50 سے 75 اقساط ہوتی ہیں جن کی تیاری پر 1 لاکھ سے 3 لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے، جبکہ روایتی آدھے گھنٹے کے ٹی وی شو کی فی قسط 20 سے 40 لاکھ ڈالر میں تیار ہوتی ہے۔
نوجوان ناظرین (22 سے 27 سال) میں سائنس فکشن، ہارر اور ایکشن شوز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ صارفین کو شروعاتی چند اقساط مفت دکھائی جاتی ہیں، جس کے بعد پورے سیزن یا سروس کے لیے 8 سے 20 ڈالر تک چارج کیے جاتے ہیں۔ بعض صارفین ان ڈراموں کے سحر میں مبتلا ہو کر ماہانہ 200 ڈالر تک خرچ کر دیتے ہیں۔
ٹک ٹاک کی اہمیت اور ہالی ووڈ کا جوابی ردعمل
ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز اور فیس بک ان ڈراموں کی ترویج کے لیے نئے ’ٹریلرز‘ کا کام کر رہے ہیں۔ نامور امریکی اداکارہ اور پروڈیوسر ایسا رائے نے اپنا پہلا مائیکرو ڈراما ‘اسکرین ٹائم’ ٹک ٹاک پر ہی ریلیز کیا جسے ایک ماہ میں 50 کروڑ سے زائد بار دیکھا گیا۔
بڑے ہالی ووڈ اسٹوڈیوز بھی اب اس دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ‘کامکاسٹ’ کی سٹریمنگ ایپ ‘پیکاک’ نے 2025 کے اوائل میں ورٹیکل شوز کا آغاز کیا، جبکہ ‘فاکس’ نے یوکرینی ایپ ‘مائی ڈراما’ میں حصص کے بدلے 200 سے زائد ورٹیکل شوز بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال اور نئی روایات
مائیکرو ڈراما بنانے والی کمپنیاں لاگت مزید کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کو بھی تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ ایکشن پر مبنی ڈرامے اب محض 3 سے 4 ہفتوں میں AI کی مدد سے $60,000 سے بھی کم لاگت میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ انسانی مصنفین اور اداکاروں کی مدد سے AI کو چہرے کے تاثرات سکھائے جاتے ہیں اور ہداہت کار چند سیکنڈز کے پرامپٹ (Prompt) کے ذریعے کردار کے تاثرات بدل دیتے ہیں۔
اداکاروں کی عالمی تنظیم (SAG-AFTRA) نے بھی مائیکرو ڈراموں کے لیے نیا کانٹریکٹ متعارف کرایا ہے جس میں کم سے کم معاوضے، آرام کے اوقات اور تحفظ کے قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں ہالی ووڈ میں نام بنانے کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی تھی، لیکن آج کل لاس اینجلس آنے والے نودریافت شدہ فنکاروں کو پہلی ملازمت انہی ‘ورٹیکل ڈراموں’ سے مل رہی ہے۔














