سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے دوران سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال ہرگز متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور طبی معائنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آج ہی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا
عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض صارفین فیصلے کو عمران خان کے علاج کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین کی جانب سے اس فیصلے اور اس کے ممکنہ سیاسی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
صحافی نصر اللہ ملک نے لکھا کہ عمران خان صاحب کا میڈیکل چیک اپ ہو گا اور ہسپتال منتقل ہونے کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باخبر قانونی اور حکومتی ذرائع کے مطابق عدالت نے صرف میڈیکل بورڈ کے ذریعے معمول کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا لیکن پی ٹی آئی اور میڈیا نے اسے عدالتی حکم پر اسپتال منتقلی کے طور پر پیش کر دیا۔
عمران خان صاحب کا میڈیکل چیک اپ ہو گا اور ہسپتال منتقل ہونے کا امکان کم ہے۔با خبر قانونی اور حکومتی ذرائع کے مطابق عدالت نے صرف میڈیکل بورڈ کے ذریعے معمول کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا، لیکن پی ٹی آئی اور میڈیا نے اسے عدالتی حکم پر اسپتال منتقلی کے طور پر پیش کر دیا۔
— Nasrullah Malik (@NasrullahMalik1) August 18, 2026
اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سپریم کورٹ کے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی ان کے علاج میں ہمراہ ہوں گے، جبکہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی میڈیکل بورڈ کا حصہ ہوں گی۔ غریدہ فاروقی نے اس پیش رفت پر سوال اٹھاتے ہوئے مختصر مگر معنی خیز انداز میں لکھا ’اس قدر ڈیل؟ یا ڈھیل؟
سپریم کورٹ کا حکم؛ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی عمران خان کے علاج میں ہمراہ ہوں گے !!!! بہن ڈاکٹر عظمی خان بھی میڈیکل بورڈ کا حصہ ہوں گی !!!!
اس قدر ڈیل ۔۔۔۔؟ ڈھیل ۔۔۔۔۔ https://t.co/XHRPunElPm
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) August 18, 2026
ایک صارف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشل منقل کرنے کا حکم دے دیا ہے، ڈیل کی پہلی سیڑھی تو طے ہو گئی بہتر ہوتا حکومت یہ کام خود کر لیتی۔
🚨🚨بڑی بریکنگ نیوز
سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشل منقل کرنے کا حکم دے دیا ہے
ڈیل کی پہلی سیڑھی تو طے ہو گئی بہتر ہوتا حکومت یہ کام خود کر لیتی pic.twitter.com/UiD0N07kCz
— RAShahzaddk (@RShahzaddk) August 18, 2026
صحر انورد نے لکھا کہ عمران خان کو صحت کی جو سہولیات ملنی چاہیے تھیں وہ مل رہی ہیں،میرا نہیں خیال کہ اس میں سے کوئی ڈیل نکل رہی ہے یا کوئی ڈھیل ہو رہی ہے، نا ہی مقتدرہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خائف ہے ایک سے دو ہفتے بعد خان صاحب واپس جیل ہی جائینگے، باقی ان کے مقدمات چلنے چاہئے اور انصاف ہونا چاہئے، اگر وہ بے قصور ہیں تو رہائی ملنی چاہئے اور اگر ان کا کوئی جرم ہے تو سزا۔
خیر مذاق ایک طرف ،لیکن عمران خان کو صحت کی جو سہولیات ملنی چاھئے تھیں وہ مل رھی ھیں،میرا نہیں خیال کہ اس میں سے کوئی ڈیل نکل رھی ھے یا کوئی ڈھیل ھورھی ھے،نا ھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خائف ھے مقتدرہ،ایک سے دو ھفتے بعد خان صاحب واپس جیل ھی جائینگے،باقی ان کے مقدمات چلنے چاھئے…
— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 18, 2026
عارف یوسفزئی لکھتے ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ڈیل مبارک، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب کسی زیر حراست ملزم و مجرم عدالتی حکم پر جیل سے اسپتال منتقل ہوا ہے تو ڈیل ہی ہوتی ہے۔ جیل سے اسپتال اور اسپتال سے ریسٹ ہاوس کی کہانی پرانی ہے۔
عمران خان/پی ٹی آئی کو ڈیل مبارک!
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب کسی زیر حراست ملزم و مجرم عدالتی حکم پر جیل سے ہسپتال منتقل ہوا ہے تو ڈیل ہی ہوتی ہے۔
جیل سے ہسپتال، ہسپتال سے ریسٹ ہاوس کی کہانی پرانی ہے۔— Arif Yousafzai (@journalist11) August 18, 2026
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کو یہ ریلیف 3 سال کی طویل جدوجہد کے بعد ملا۔ یہ کوئی بڑا ریلیف نہیں بلکہ ایک معمولی قانونی حق تھا جس کے لیے بھی سپریم کورٹ تک جانا پڑا۔ عمران خان کو 8 ماہ تک ملاقاتوں سے محروم رکھا گیا۔ انہیں مناسب میڈیکل اور طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ بلڈ پریشر جیسے طبی مسائل کے باوجود ان کے کیس میں غیر معمولی تاخیر اور سختی دیکھنے میں آئی۔ عام مقدمات میں اس نوعیت کا ریلیف ٹرائل کورٹ یا زیادہ سے زیادہ ہائی کورٹ سے چند دنوں میں مل جاتا ہے مگر عمران خان کے معاملے میں طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی۔
عمران خان صاحب کو یہ ریلیف تین سال کی طویل جدوجہد کے بعد ملا۔ یہ کوئی بڑا ریلیف نہیں بلکہ ایک معمولی قانونی حق تھا، جس کے لیے بھی سپریم کورٹ تک جانا پڑا۔ عمران خان کو آٹھ ماہ تک ملاقاتوں سے محروم رکھا گیا۔انہیں مناسب میڈیکل اور طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔…
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) August 18, 2026














